BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میری آواز سنو‘

’میری آواز سنو‘ کی ٹیم
’میری آواز سنو‘ کی ٹیم
خواتین کی ایک عام شکایت ہے کہ مردوں کی اس دنیا میں ان کی نہیں سنی جاتی۔ پاکستان میں چند نوجوان خواتین نے ایک انوکھے پراجیکٹ کی ابتداء کی ہے جس سے وہ اس شکایت کا مداوا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

خواتین کے عالمی دن کے مو قع پر اسلام آباد میں انہوں نے ایک اچھوتا ریڈیو پراجیکٹ متعارف کرایا۔

’میری آواز سنو‘ خواتین صحافیوں کی جانب تیار کیا گیا ایک ایسا ریڈیو پروگرام ہے جس میں معاشرے کے تمام مسائل اجاگر کیے جاتے ہیں۔

آزاد میڈیا میں اپنے لیے کسی مقام کے حصول کی خاطر نوجوان خواتین کی یہ اہم کوشش ہے۔اس ٹیم میں پانچ افراد شامل ہیں، سارہ فرید، بشری اقبا ل، نبیلہ اسلم اور نادیہ گل جو کہ صحافی ہیں اور روبینہ نواب جو کہ مارکیٹنگ منیجر ہیں جبکہ اس پروگرام کی کنسلٹنٹ نامور شاعر فیض احمد فیض کی صاحبزادی منیزہ ہاشمی ہیں۔

News image
’میری آواز سنو‘ کی ٹیم موضوعات اور کہانیوں کے حصول کے لیے ملک بھر کے دیہی اور شہری علاقوں کا دورہ کریں گی

پروگرام کی ایگزیکٹو پروڈیوسر سارہ فرید کا کہنا ہے کہ پا کستان میں صحافیوں کی کل تعداد میں سے صرف تین فیصد خواتین ہیں۔ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ملکی میڈیا میں حالاتِ حاضرہ کی تشریح عموماً ایک مردانہ طرز نگاہ کی حامل ہے۔

امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی کی مالی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنطیم انٹر نیوز کی تکنیکی معاونت سے تربیت پانے والی اس ٹیم کا مقصد اس مسئلہ کا حل خواتین کو فروغ دے کر صحافت میں توازن قا ئم کرنا ہے۔

’میری آواز سنو‘ پندرہ منٹ دورانیہ کا پروگرام ہے جو فیچر رپوٹس ،انٹرویو ، مباحثے اور رائے عامہ پر مشتمل ہے۔ یہ ٹیم ہفتے میں دو پروگرام تیار کرتی ہےـ

’میری آواز سنو‘ میں جن موضوعات کا احاطہ کیا جاتا ہے ان میں تعلیم، صحت اور آرٹ شامل ہیں۔

آٹے میں نمک کے برابر
پا کستان میں صحافیوں کی کل تعداد میں سے صرف تین فیصد خواتین ہیں۔
پاکستانی خاتون صحافی

ان پروگراموں میں لڑکیوں کی تعلیم ، کھیلوں میں خواتین کا کردار، خواتین ارکان پارلیمنٹ، غیرت کے نام پر قتل، بچوں سے مشقت، کا م کرنے والی خواتین کے بچوں کے لیے ڈے کیئر سنٹر، ایچ آئی وی اورایڈز جیسے موضوعات اُجاگر کیے گئے ہیں-

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عوام کی آگہی کے لیے پاکستان میں ریڈیو پر ایسے پروگرام نشر کیے جارہے ہیں۔

پروگرام کی پیش کار بشریٰ اقبال سے جب پوچھا گیا کہ آخر ریڈیو ہی کیوں تو کہنے لگیں کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نجی شعبے میں آزاد اور خود مختار نشریاتی ادارے قائم ہوئے ہیں۔ پچھلے دو سال میں پچاس سے زائد ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم ہوچکے ہیں۔ یہ بہترین موقع ہے کہ پاکستان کے 150 ملین عوام کو ایک نئے اور مختلف زاویے سے خواتین کے نکتہ نگاہ سے خبروں اور اطلاعات پر مبنی پروگرام فراہم کیے جائیں۔

صحافی پروڈیوسر نبیلہ اسلم نے بتایا کہ ’میری آواز سنو‘ کے پروگرام ملک بھر کے ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں کو بلا معاوضہ فراہم کیے جائیں گے۔

News image
’ملکی میڈیا میں حالاتِ حاضرہ کی تشریح عموماً ایک مردانہ طرز نگاہ کی حامل ہے‘

انہوں نے کہا کہ ’میری آواز سنو‘ کی ٹیم موضوعات اور کہانیوں کے حصول کے لیے ملک بھر کے دیہی اور شہری علاقوں کا دورہ کریں گی تاکہ قومی سطح کے پروگرام تیار ہو سکیں۔

لیسہ اپٹن جوکہ ٹیم کی ٹرینر ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میری آواز سنو‘ کی خاص باتوں میں سے ایک نمایاں پہلو پروگرام کا اعلیٰ صحافتی معیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ متنازعہ سے متنازعہ موضوعات مثلا خواتین کے طلاق کے حقوق، خواتین میں ایڈز، جسم فروشی، غیرت کے نام پر قتل، زنا وغیرہ صحافتی توازن سے پیش کیے جاتے ہیں جن میں موضوع سے متعلق نہ صرف تمام پہلو اُجاگر کئے جاتے ہیں بلکہ مسائل کے شکار افراد کا نقطۂ نظر اور ماہرین کی آراء بھی شامل کی جاتی ہیں تا کہ موضوعِ بحث کے بارے میں سننے والوں کے علم میں اضافہ ہو۔

پندرہ منٹ صرف خواتین کے
’میری آواز سنو‘ پندرہ منٹ دورانیہ کا پروگرام ہے جو فیچر رپوٹس ،انٹرویو ، مباحثے اور رائے عامہ پر مشتمل ہے۔

’میری آواز سنو‘ کی تعارفی تقریب میں شامل خواتین کی ایک بڑی تعداد اس بات کی مظہر دکھائی دیتی تھی کہ یہ اچھوتا ریڈیو پروگرام بہت سی خواتین کو مائل اور قائل کرے گا کہ وہ میڈیا اور صحافت کو بطور کیرئیر اپنائیں اور اپنی آواز بلند کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد