نابینا افراد کے لیے آڈیو لائبریری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بصارت سے محروم افراد کے لیے زندگی میں ویسے ہی بہت سی دشواریاں ہوتی ہیں اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں تو تعلیم کے حصول کے لیے خاص طور بصارت سے محروم لوگوں کے لیے بہت ہی کم وسائل ہیں۔ آج سے چند برس پہلے تک پاکستان کے عام نجی اور حکومتی اداروں میں بصارت سے محروم افراد کے لیے پڑھنے اور لکھنے کے لیے واحد طریقہ بریل کے ذریعے تعلیم کا تھا۔ ’ بریل ایک ایسے نظام کو کہا جاتا ہے جس کے تحت بصارت سے محروم افراد کے لیے کتابیں اُبھرے ہوئے حروف میں تحریر ہوتی ہیں اور بصارت سے محروم لوگ اپنی انگلیوں کے مدد سے ان کتابوں کو پڑھتے ہیں‘۔ بریل میں لکھی ہوئی کتابیں نہ صرف بہت مہنگی ہوتی ہیں بلکہ وہ بہت کم دستیاب ہوتی ہیں۔ لیکن چند برس پہلے پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں ایک غیر سرکاری تنظیم پاکستان فائیٹنگ فاؤنڈیشن کے تحت بننے والی آڈیو لائبریری نے بصارت سے محروم لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے نصابی اور غیر نصابی کتابوں کو آواز کی صورت میں محفوظ کرنے کا کام شروع کیا اور یہ اب پاکستان کی سب سے بڑی آڈیو لائبریری بن گئی ہے۔ اس آڈیو لائبریری کی پراجیکٹ ڈائریکٹر صائمہ عمار نے جو خود بھی بصارت سے محروم ہیں اس لائبریری کے بارے میں بتایا کہ اِس وقت اس میں ایک ہزار سے زائد کتابیں آواز کی صورت میں محفوظ ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ کیونکہ وہ خود بھی بصارت سے محروم ہیں اس لیے انہوں نے مختلف آوازوں کے ملاپ (ساؤنڈ ایفکٹ) سے اس طرح ریکارڈنگ کی ہے کہ یہ کتابیں بولتی ہوئی فلموں کی طرح لگتی ہیں۔ صائمہ عمار کا کہنا تھا کہ اس وقت تیئس سو سے زائد طالبعلم اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں’ تیئس سو کا ہندسہ شاید بہت سے لوگوں کے لیے بہت بڑا ہندسہ نہ ہو لیکن یہ ہمارے لیے تئیس سو زندگیوں کا سوال ہے ‘۔ اس آڈیو لائبریری میں پانچویں کلاس سے لے کر بی اے تک کی تمام ٹیکسٹ کتابیں آڈیو کیسٹز پر محفوظ ہیں۔ نصابی کتابوں کے علاوہ فردوس بریں، اُمراو جان ادا اور بانو قدسیہ کا راجہ گدھ جیسے بہت سے مشہور کلاسیک ناول اور پاکستان کے ممتاز شعرا کی منتخب شاعری کی بھی ریکارڈنگ اس لائبریری میں دستیاب ہے۔ اس لائبریری سے فائدہ اٹھانے والوں میں ایف اے کے طالبعلم طلال بھی ہیں جو پچھلے پانچ سال سے اس لائبریری میں موجود کتابوں سے استفادہ کر رہے ہیں۔ طلال کا کہنا تھا کہ میٹرک تک کی کتابیں تو بریل پر دستیاب ہیں لیکن میٹرک کے بعد تک کی تعلیم کے ہمارے پاس واحد ذریعہ یہ آڈیو کیسٹ ہیں۔ اگر کوئی کتاب یہاں موجود نہ ہو تو وہ ہماری خواہش پر ریکارڈ بھی کر کے دی جاتی ہے۔ مثلاً عربی کی کتاب اس لائبریری میں موجود نہیں تھی تو ہماری درخواست پر عربی کی کتاب ریکارڈ کروا کر ہمیں دی گئی، اس طرح سے ہماری بہت حوصلہ افزائی ہوئی۔
اس لائبریری سے استفادہ کرنے والوں میں افتخار احمد اور محمد شفیق بھی شامل ہیں، یہ دونوں بی اے کے طالبعلم ہیں یہ دونوں بھی گزشتہ پانچ سالوں سے اس لائبریری سے وابستہ ہیں، ان دونوں کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے اپنے نصابی کُتب کے علاوہ یہاں موجود تقریباً تمام مشہور ناول سُن لیے ہیں، ان میں عبداللہ مسعود کا ’ اُداس نسلیں‘ نسیم حجازی کا ناول’میں ایک جاسوس تھا‘ اور ’خاک اور خون‘ بہت پسند ہیں۔ صائمہ عمار کا کہنا تھا کہ اب اُن کی ترجیح یہ ہے عام طور پر نصاب میں شامل کتابوں کے ساتھ وہ اب پروفیشنل تعلیم کی کتابوں کو بھی اس لائبریری کی زینت بنائیں ۔ اس لائبریری میں موجود تمام کتابیں پاکستان ریڈیو اور ٹیلی وژن سے منسلک براڈکاسٹروں نے رضاکارانہ طور پر ریکارڈ کروائی ہیں ان میں خالد حمید، صوفیہ شاہد اور شائستہ زید جیسے نام شامل ہیں۔ آجکل ریڈیو پاکستان سے منسلک فرح ناز اس لائبریری میں ریکارڈنگ کروا رہی ہیں۔ فرح ناز کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے پاکستان ٹیلی وژن پر صائمہ عمار کو اس لائبریری کی خصوصیات بتاتے ہوئے سنا جس کے بعد سے میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ شاید میں بھی اپنی آواز سے کچھ لوگوں کے لیے روشنی کا سامان پیدا کر سکوں۔ میں نے پانچ ماہ پہلے یہاں آنا شروع کیا تھا اب تک میں دو کتابیں ریکارڈ کروا چُکی ہوں اور اب تیسری کتاب پر کام ہو رہا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اس آڈیو لائبریری نے بہت سے بصارت سے محروم افراد کے لیے نہ صرف بنیادی تعلیم کے حصول کو آسان بنا دیا ہے بلکہ بصارت سے محروم ِان لوگوں کو زندگی کے اس دشوار گزار راستے پر کامیابی کے ساتھ چلنے میں بھی یہ آڈیو لائبریری بہت مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||