لائبریریاں اب انٹر نیٹ پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوگل دنیا کے پانچ اہم ترین تعلیمی اداروں کی لائبریریوں کو ڈیجیٹل بنائے گا۔ اس منصوبے کے تحت کتابوں کے صفحات کو سکین کیا جائے گا اور لوگ انٹرنیٹ پر ان صفحات کو پڑھ سکیں گے۔ اس منصوبے میں مشی گن اور سٹین فورڈ کی لائبریریوں کا مکمل مواد جبکہ ہارورڈ، آکسفورڈ اور نیویارک پبلک لائبریری میں موجود کتابوں کا کچھ حصہ شامل ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ سکین کیے گئے صفحات پر کسی قسم کے اشتہارات نہیں ہوں گے البتے ان صفحات پر کتابوں کی خریدوفروخت کے ویب سائٹ ایمزون ڈاٹ کام کے لنک موجود ہوں گے۔ گوگل کے اس منصوبے کی ڈائریکٹر سوزان واجکک کا کہنا تھا کہ ’ اس منصوبے کا مقصد علم کی اس مقید دولت کو سامنے لانا ہے۔‘ ان آن لائن صفحات پر عوامی لائبریریوں کے لنک بھی موجود ہوں گے جن سے قارئین استفادہ کر سکیں گے۔ مشی گن لائبریری کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے میں چھ برس لگیں گے۔ اس لائبریری میں ستر لاکھ کتابیں موجود ہیں۔ نیویارک لائبریری نے گوگل کو صرف ان کتب کو استعمال کرنے اجازت دی ہے جن کے جملہ حقوق محفوظ نہیں ہیں۔ ہاروڈ یونیورسٹی نے اس منصوبے کے لیے چالیس ہزار کتب دی ہیں جبکہ آکسفورڈ نےگوگل کو 1901 سے قبل شائع کی گئی کتب کو سکین کرنے کی اجازت دی ہے۔ نیویارک پبلک لائبریری کے صدر پال لی کلارک نے کہا کہ ’ یہ دنیا کوان معلومات کی فراہمی کا ایک سنہری موقع ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی مدد سے ہم ان لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں جن کی رسائی ہم تک نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||