کراچی کے کُتب خانے کیا ہوئے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معروف شاعر فیض احمد فیض کے ہاتھوں رکھی جانے والی غالب لائبریری کی بنیاد اب اندھیروں میں ڈوب رہی ہے۔ ’یہ داغ داغ اجالا‘ اور ’یہ شب گزیدہ سحر‘ جیسے خدشات ظاہر کرنے والے فیض صاحب نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ گنجان رہائشی علاقہ ناظمآباد میں مرزا ظفرالحسن کے ساتھ مل کر جس ’غالب لائبریری‘ کی بنیاد رکھ رہے ہیں اس میں ایک دن اندھیرا چھا جائے گا۔ غالب لائبریری کی بجلی کا کنکشن دو ماہ سے منقطع ہے۔ اور اس کا سبب عجیب و غریب ہے۔ جس عمارت کی پہلی منزل پر یہ شاندار کتب خانہ قائم تھا ، اس کی زمینی منزل پر ایک بنک کی شاخ کام کر رہی تھی۔ گذشتہ سال کے اواخر میں بنک کی شاخ بند کر دی گئی اور بنک کی طرف سے بجلی کا بل بھی ادا نہیں کیا گیا ۔ جس پاداش میں عمارت کی بجلی منقطع کر دی گئی ہے۔ غالب لائبریری صوبائی حکومت سے این او سی یا عدم اعتراض کی سند لینے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ بجلی کا نیا کنکشن حاصل کیا جا سکے۔ مگر یہ درخواست شعبہ ثقافت اور شعبہً مالیات میں نوکر شاہی کی غلام گردشوں کا شکار بنی ہوئی ہے۔ اس دوران غالب لائبریری میں حبس، اندھیروں اور گرمی کا دور دورہ ہے۔ ادارہ یادگار غالب کے زیر اہتمام قائم ہونے والی اس لائبریری میں تیس ہزار سے زائد کتابیں اور ’اودھ پنچ، الہلال ، اور نگار جیسے قدیم ادبی جریدوں کے سینکڑوں شمارے محفوظ ہیں۔ فیض احمد فیض نے مرزا ظفرالحسن کے ساتھ مل کر اس کتب خانے کی بنیاد غالب کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر رکھی تھی۔ ابتداً میں طے پایا تھا کہ کالعدم بلدیہ کراچی لائبریری کے نیچے قائم بنک سے موصول ہونے والا کرایہ غالب لائبریری کو ’گرانٹ ان ایڈ‘ کے طور پر ادا کیا کرے گی۔ لیکن دس برس قبل یہ معاوضہ ملنا بند ہو گیا۔ سبب یہ رہا کہ جب بلدیہ کراچی کسی اور لائبریری کو کوئی گرانٹ نہیں دیتی تو غالب لائبریری کس کھاتے میں آتی ہے۔ اسلام آباد میں قائم اکادمی ادبیات کراچی کی اس لائبریری کو دس ہزار سالانہ دیا کرتی تھی اور وہ بھی دس برس پہلے بند ہوگیا۔ شاید اچھا ہی ہوا کہ فیض صاحب یہ سب دیکھنے سے قبل اس دنیا سے چلے گئے! |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||