| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنسی سیاحت کا بازار
اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال یونسیف نے جرمنی اور چیک ری پبلک کی سرحد پر بچوں کی جسم فروشی کے بارے میں ایک انتہائی اندہوناک رپورٹ جاری کی ہے۔ یونسیف نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس علاقے میں بعض گھرانے پیسوں کی خاطر اپنے بچوں کو خود اس آگ میں دھکیل دیتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں جرمن سرحد عبور کر کے اپنی ہوس پوری کرنے اس علاقے میں آتے ہیں۔ اس علاقے میں آٹھ سال تک کے کمسن بچے لوگوں سے پیسے طے کرتے نظر آتے ہیں۔ کچھ بچوں کو چند مٹھائیوں کے عوض ہی ہوس کا نشانہ بنالیا جاتا ہے۔ جرمنی میں یونسیف کے نمائندے نے کہا ہے کہ جرمنی اور چیک حکومتیں اس لعنت کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں اور وہ اس کی طرف سے صرفِ نظر کر رہی ہیں۔ جرمن پولیس کے ایک اہلکار نے اسے یورپ میں بچوں کی جسم فروشی کا سب سے بڑا گڑھ قرار دیا۔ بچوں کی جسم فروشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر ایک اور اہلکار نے کہا کہ چیک ری پبلک بچوں کا سب سے سستا بازار بن گیا ہے۔ یونسیف کی رپورٹ میں کہا گیا کہ چیک ری پبلک کے علاوہ یہاں وسطی اور مشرقی یورپ سے بھی بچوں کو جسم فروشی کے لیے لایا جاتا ہے۔ ان ہوس کے پجاریوں میں سب سے زیادہ تعداد جرمنوں کی ہوتی ہے جو یہاں جنسی سیاحت کی غرض سے آتے ہیں اور بچوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے پیسے خرچ کر تے ہیں۔ جرمن صدر کی بیوی نے جو کہ یونسیف کی جرمنی میں سرپرست بھی ہیں کہا کہ یہ بات واقعی بڑی حیران کن ہے کہ ہماری ناک کے بلکل نیچے بچوں کا اس بری طرح سے استحصال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فوری طور پر کچھ کرنا چاہیے تاکہ دوسرے بچوں کو بچایا جا سکے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ جرمن جنسی سیاح چیک ری پبلک جاتے ہیں جن میں سے آدھے سے زیادہ صرف بچوں کو ہوس کا نشانہ بنانے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ علاقے کے پیٹرول پمپ ، بس اسٹاپ اور آرام گاہیں بچوں کی فروخت کا بازار بن گئی ہیں جہاں پر ان بچوں کے سودے ہوتے ہیں۔ کچھ اضلاع میں بچوں کو گاڑیوں اور اپارٹمنٹس میں رکھا جاتا ہے۔ اور بعض مقامات پر عورتیں جنسی سیاحوں کی تلاش میں بچوں کو گودی میں اٹھا کر پھرتی ہیں ۔ زیادہ تر بچوں کوغربت کے باعث جسم فروشی پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ ان میں بعض بچے ہوس پرستوں کے تشدد کا نشانہ بھی بن جاتے ہیں۔ ان جنسی سیاحوں میں اطالوی اورآسٹریا کے باشندے بھی شامل ہوتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||