پیسہ جسم فروشی کامحرک: ماہرین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں گزشتہ چند برسوں میں زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی ہے۔ لیکن تبدیلیوں کے اس دور میں دیگر پہلووں کے علاوہ جسم فروشی کو بھی زبر دست فروغ ملا ہے۔ دنیا کا قدیم ترین پیشہ اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ کئی لوگ دلّی کو جسم فروشی کا دارالحکومت کہنے لگے ہیں۔ پہلے جسم فروشی کے لئے شہر کا کوئی چھوٹا سا علاقہ مخصوص ہوا کرتا تھا۔ اب تو پورا شہر ہی اس کی گرفت میں ہے۔ اب یہ کام ڈھکے چھپے نہیں بلکہ باقاعدہ اشتہارات دے کر ہوتا ہے۔ جواہر لال نہرو یونورسٹی کی ماہرسماجیات ڈاکٹر رینوکا سنگھ کہتی ہیں کہ جسم فروش لڑکیوں یا سیکس ورکرز کی تعداد میں اضافہ تو ہواہی ہے ساتھ ہی ساتھ اب لوگ کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ دلّی پولیس کے شبعہ جرائم کے سربراہ تجندر لوتھرا کا کہنا ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے سبب جسم فروشی اب انتہائی آساں ہو گئی ہے۔ کیوں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے آدمی اپنا کام گمنامی میں رہ کر آسانی سے کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر رینوکا سنگھ کا خیال ہے کہ اب پیسے کی ضرورت کے علاوہ آسانی سے پیسہ حاصل کرنے کی خواہش بھی بہت سی لڑکیوں کو جسم فروشی کی طرف راغب کرتی ہے۔ کئی لڑکیاں صرف ’موج و مستی‘ کے لئے بھی اس کاروبار میں آئی ہیں۔ جسم کے خریدداروں کا بھی کـچھ اسی طرح کارحجان ہوتا ہے۔ مرد و خواتین ہم جنس پرستوں کے درمیان کام کرنے والی ایک تنظیم ڈیویلپمنٹ ایڈوکیسی اینڈ ریسرچ ٹرسٹ کے سربراہ سندیش سنگھ کا خیال ہے کہ یوں تو دلّی میں روایتی طرز کی جسم فروش عورتوں کی تعداد چار ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی لیکن حقیقتاً اس پیشے میں ایک اندازے کے مطابق دو لاکھ لڑکیاں سرگرم ہیں۔ لیکن ان میں بیشتر وہ ہیں جو سامنے آکر یہ کام نہیں کرتیں بلکہ پس پردہ مختلف ناموں سے اس بزنس میں ہیں۔ سماجیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم فروشی معاشرے کا ایک ایسا مسئلہ ہے جو شاید مکمل طور پر کبھی حل نہیں کیا جا سکتا۔
ہندوستان میں تو یہ بحث جاری رہے گی ساتھ ہی ساتھ اس کاروبار میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا- شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب پولیس مختلف مقامات پر چھاپے مار کر سیکس ورکرز کو گرفتار نہ کرتی ہو- لیکن مساج پارلروں اور دوستی کلبوں کے اشتہاروں میں کوئی کمی نہیں آتی- اور اب تو امریکہ، روس، وسطی ایشیا و ترکی اور یہاں تک کہ عرب ممالک کی لڑکیاں بھی دارالحکومت دلی میں آسانی سے دستیاب ہیں- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||