BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 October, 2004, 11:07 GMT 16:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیسہ جسم فروشی کامحرک: ماہرین

رینوکا سنگھ
ڈاکٹر رینوکا سنگھ کا کہنا ہے کہ جسم فروش لڑکیوں یا سیکس ورکرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے
ہندوستان میں گزشتہ چند برسوں میں زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی ہے۔ لیکن تبدیلیوں کے اس دور میں دیگر پہلووں کے علاوہ جسم فروشی کو بھی زبر دست فروغ ملا ہے۔ دنیا کا قدیم ترین پیشہ اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ کئی لوگ دلّی کو جسم فروشی کا دارالحکومت کہنے لگے ہیں۔

پہلے جسم فروشی کے لئے شہر کا کوئی چھوٹا سا علاقہ مخصوص ہوا کرتا تھا۔ اب تو پورا شہر ہی اس کی گرفت میں ہے۔ اب یہ کام ڈھکے چھپے نہیں بلکہ باقاعدہ اشتہارات دے کر ہوتا ہے۔

جواہر لال نہرو یونورسٹی کی ماہرسماجیات ڈاکٹر رینوکا سنگھ کہتی ہیں کہ جسم فروش لڑکیوں یا سیکس ورکرز کی تعداد میں اضافہ تو ہواہی ہے ساتھ ہی ساتھ اب لوگ کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔

دلّی پولیس کے شبعہ جرائم کے سربراہ تجندر لوتھرا کا کہنا ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے سبب جسم فروشی اب انتہائی آساں ہو گئی ہے۔ کیوں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے آدمی اپنا کام گمنامی میں رہ کر آسانی سے کر سکتا ہے۔

دلی کا اخبار
دلّی کے اخبارات روزانہ مساج پالرز یعنی مالش سنٹرز یا دوستی کلب کے اشتہاروں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں
دلّی کے اخبارات روزانہ مساج پالرز یعنی مالش سنٹرز یا دوستی کلب کے اشتہاروں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں۔ لیکن ان اشتہارات کے ذریعے پس پردہ جسم فروشی کا کاروبار پھل پھول رہا ہے۔ اس پیشے میں صرف غریب اور مجبور عورتیں ہی نہیں بلکہ پڑھی لکھی متوسط گھرانوں اور کبھی کبھی اعلے متوسط گھرانوں کی لڑکیاں بھی ملوث ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر رینوکا سنگھ کا خیال ہے کہ اب پیسے کی ضرورت کے علاوہ آسانی سے پیسہ حاصل کرنے کی خواہش بھی بہت سی لڑکیوں کو جسم فروشی کی طرف راغب کرتی ہے۔ کئی لڑکیاں صرف ’موج و مستی‘ کے لئے بھی اس کاروبار میں آئی ہیں۔ جسم کے خریدداروں کا بھی کـچھ اسی طرح کارحجان ہوتا ہے۔

مرد و خواتین ہم جنس پرستوں کے درمیان کام کرنے والی ایک تنظیم ڈیویلپمنٹ ایڈوکیسی اینڈ ریسرچ ٹرسٹ کے سربراہ سندیش سنگھ کا خیال ہے کہ یوں تو دلّی میں روایتی طرز کی جسم فروش عورتوں کی تعداد چار ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی لیکن حقیقتاً اس پیشے میں ایک اندازے کے مطابق دو لاکھ لڑکیاں سرگرم ہیں۔ لیکن ان میں بیشتر وہ ہیں جو سامنے آکر یہ کام نہیں کرتیں بلکہ پس پردہ مختلف ناموں سے اس بزنس میں ہیں۔

سماجیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم فروشی معاشرے کا ایک ایسا مسئلہ ہے جو شاید مکمل طور پر کبھی حل نہیں کیا جا سکتا۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس تجندر لتھرا
تجیندر لوتھرا کا کہنا ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے سبب جسم فروشی اب انتہائی آساں ہو گئی ہے
ڈپٹی پولیس کمشنر تجندر لوتھرا کا بھی یہی خیال ہے کہ اسے پوری طرح ختم نہیں کیا جا سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ اسے ایک حد کے اندر رہنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ لیکن یہ حد کیا ہو اس کا تعین خود معاشرے کو کرنا ہوگا۔

ہندوستان میں تو یہ بحث جاری رہے گی ساتھ ہی ساتھ اس کاروبار میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا- شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب پولیس مختلف مقامات پر چھاپے مار کر سیکس ورکرز کو گرفتار نہ کرتی ہو- لیکن مساج پارلروں اور دوستی کلبوں کے اشتہاروں میں کوئی کمی نہیں آتی- اور اب تو امریکہ، روس، وسطی ایشیا و ترکی اور یہاں تک کہ عرب ممالک کی لڑکیاں بھی دارالحکومت دلی میں آسانی سے دستیاب ہیں-

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد