بالی وڈ اور جسم فروشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے ایک ٹیلی وثرن چینل پر آج کل ایک پروگرام کا بہت چرچا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ بالی ووڈ کی کئی اداکارائیں اور ماڈلز جسم فروشی کے دھندے میں ہیں۔ اس پروگرام کو بنانے کے لئے رپوٹروں نےگاہکوں کا بھیس بدل کر مبینہ طور پر اداکاراوں اور ماڈلز کے ساتھ سودا کیا اور چھپے ہوئے کیمرے سےان کی ویڈیو بنائی۔ سٹار ٹی وی پر جرائم اور جرائم پیشہ افراد پر دکھایا جانے والا پروگرام’ریڈ الرٹ‘ گزشتہ دو ہفتوں سے جسم فروشی کے مسئلے پر رپورٹنگ کر رہا ہے۔ سنیچر کو دکھائے جانے والے پروگرام میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح دلی کے اعلی گھرانوں کی لڑکیاں اپنے خرچے پورے کرنے کے لئے جسم فروشی کے کاروبار میں لگی ہوئی ہیں۔ اس کے بعد ریڈالرٹ کے نامہ نگاروں نے ممبئی میں مبینہ طور پر ماڈلوں اور بالی ووڈ کی ہیروئینوں کو ہوٹلوں کے کمروں میں بلایا۔اور ان سے ممبئی میں اس دھندے کے بارے میں کھلی بات کی۔ اس پروگرام میں اس کاروبار میں لگی لڑکیوں کے چہرے اور پہچان ظاہر نہیں کی گئی۔لیکن یہ دعوی کیا گیا کہ ان میں سے ایک کسی مشہور ٹیلکم پاؤڈر کی ماڈل ہے تو دوسری کو فلمی ادکارہ بتایا گیا ہے۔جو شاہ رخ خان کی کسی فلم میں کام کر چکی ہے۔
اس پروگرام کے مطابق یہ رپوٹر ان اداکاراوں اور ماڈلز تک مختلف ویب سائیٹں پر موجود اطلاعات پر دلالوں کے ذریعے پہنچے ۔ حالانکہ اس پروگرام میں ایسا کچھ نہیں دکھایا گیا جس کے بارے میں لوگ عام طور پر نہیں جانتے پھر ایسا پروگرام کس لئے؟ اس بارے میں ریڈ الرٹ بنانے والی کمپنی کے سربراہ اجیت انجم کا کہنا ہے کہ ’جہاں تک جاننے کا تعلق ہے تو بہت لوگ بہت کچھ جانتے ہیں ۔ ضرورت حقیقت کو سامنے لانے کی ہے اور جب آپ اسے سامنے لاتے ہیں تو وہ ایک کہانی ہوتی ہے ۔ لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ اس دھندے میں ماڈلز اور ہیروئینیں ہوتی ہیں لیکن اس بات کا ثبوت پیش کرنا ضروری تھا۔ لیکن میڈیا کے نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام مختلف ٹی وی چینلوں کے درمیان بڑی تعداد میں ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے ۔ اجیت انجم اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ ان پر ٹی وی چینلوں کے درمیان بڑھتے مقابلے کا دباؤ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یوں تو یہ پروگرام دلی کے مساج پارلروں کے اشتہارات کو دیکھ کر ایک چھوٹی سی رپورٹ بنانے سے شروع ہوئی تھا لیکن جب اس پر کام شروع کیا گیا تو معاملہ بہت گہرا نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کےلئے سٹار ٹی وی کے سربراہ اودے شنکر نے اجازت دی تھی۔ ماڈلز اور ہیروئنوں کی پہچان اور چہرے ظاہر نہ کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایک ٹی وی چینل ہونے کے ناطے اس پر سماجی ذمےداری ہے اور دباؤ بھی بھی بہت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||