BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 July, 2006, 12:52 GMT 17:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی دھماکے، مزید دو افراد گرفتار

ممبئی دھماکوں کے سلسلے میں اب تک چھ افراد گرفتار کئے جا چکے ہیں
ممبئی کی کرائم برانچ پولیس نے بم دھماکوں کے سلسلہ میں مزید دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس ان افراد کو انسداد دہشتگردی کے شعبے کے حوالے کردے گی۔ ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں اب تک چھ افراد گرفتار کئے جا چکے ہیں۔

پولیس نے جن دو افراد کو گرفتار کیا ہے ان میں سے ایک کا نام ضمیر احمد اور دوسرے کا سہیل شیخ ہے۔ سہیل پونے کا رہنے والا بتایا جاتا ہے۔

پولیس نے گزشتہ روز ڈاکٹر تنویر کوگرفتار کیا تھا جسے عدالت نے چار اگست تک پولیس تحویل میں رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ ڈاکٹر تنویر سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) کے کارکن ہیں اور وہ ایران کے راستے مبینہ طور پر پاکستان گئے تھے جہاں انہوں نے بم بنانے اور اسلحہ چلانے کی تربیت حاصل کی تھی۔


پولیس کا دعوٰی ہے کہ انہیں ضمیر اور سہیل کے بارے میں ڈاکٹر تنویر سے اطلاعات ملی ہیں۔ ضمیر گریجویٹ ہے اور چابی بنانے کا ماہر ہے۔ اس کی چابی بنانے کی دکان بھی ہے۔
پولیس
گرفتار شدگان کا مبینہ طور پر سیمی یا لشکر سے کوئی نہ کوئی تعلق تھا

ممبئی میں سات ٹرینوں میں یکے بعد دیگرے سات دھماکوں کو دو ہفتہ ہوچکے ہیں اور پولیس نے اب تک چھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ لیکن پولیس ابھی تک یہ معلوم کرنے میں ناکام ہے کہ بم دھماکے کس نے کیئے اور اس میں کس تنظیم کا ہاتھ ہے۔ اب تک جتنے بھی افراد کو گرفتار کیا گيا ہے عدالت میں ان کی حراست کا مطالبہ کرتے ہوئے صرف یہی دلیل دی گئی ہے کہ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ ملزمان بم دھماکوں کی سازش میں ملوث ہیں اور مزید تفتیش کے لیئے پولیس کو ان سے پوچھ گچھ کی ضرورت ہے۔

انسداد دہشتگردی عملہ کے سربراہ کے پی رگھوونشی کا کہنا ہے ’ابھی تک پولیس یہ پتہ نہیں کر سکی ہے کہ دھماکے کس نے کرائے ہیں‘۔ انہوں نے ان گرفتاریوں کے بارے میں بتایا کہ سیمی کے ان ملزمان کی گرفتاری اور ان سے تفتیش کے بعد انہیں یہ ’معمہ حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ دھماکوں کے پیچھے کون تھا‘۔

پولیس نے اب تک جتنے افراد کو بھی کوگرفتار کیا ہے ان کا مبینہ طور پر سیمی یا لشکر سے کوئی نہ کوئی تعلق تھا۔

بم دھماکوں کی سازش کو بے نقاب کرنے کے لیئے ممبئی کرائم برانچ سی آئی ڈی، انسداد دہشت گردی عملہ اور انٹیلیجنس بیورو مل کر کام کر رہے ہیں۔ فی الوقت کرائم برانچ کی تحویل میں ایسے دو اور افراد سے تفتیش جاری ہے جن پر سیمی سے منسلک ہونے کا شبہ ہے۔ ان میں ایک بنگلور کے سافٹ ویئر انجینئر بھی ہیں۔

اسی بارے میں
زندگی تھم گئی ہے
18 July, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد