زندگی تھم گئی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لوگ کہتے ہیں ممبئی میں چاہے جتنا بڑا حادثہ ہو زندگی فورًا ہی معمول پر آجاتی ہے ۔لیکن ٹرین بم دھماکوں میں مرنے والوں کے عزیز و اقارب کے لیئے زندگی ٹھہرگئی ہے۔ کئی بیوائیں سکتے کی حالت میں ہیں۔ انہیں ابھی بھی یقین نہیں آرہا ہے کہ اس حادثہ میں ان کے شوہر کی موت واقع ہو چکی ہے وہ آج بھی اپنے شوہروں کے واپس آنے کی منتظر ہیں۔ اعجاز شیخ کی موت ٹرین حادثہ میں ہوئی۔ ان کی بیوی شگفتہ اور گیارہ سالہ بیٹی انعم کی نگاہیں آج بھی دروازے پر لگی ہیں۔ ان کا ایک دس ماہ کا بیٹا عفان بھی ہے۔ ’اکثر وہ رات دیر سے آتے تھے اس روز انہوں نے فون کیا کہ عفان کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہے اس لیئے جلدی آؤں گا پھر وہ نہیں آئے۔ سب کہتے ہیں وہ مر گئے لیکن میں کیسے یقین کروں۔ کھڑکی سے نظریں لگائے بیٹھی رہتی ہوں شاید ابھی دروازہ کھٹکھٹائیں‘۔ اعجاز جیسے کئی لوگ ہیں جو اس روز وقت سے پہلے گھر کے لیئے نکلے۔ شاید وہ موت کا بلاوا تھا۔ سابق قومی جونیئر ہاکی کھلاڑی سیفورڈ ڈی سیلس ہمیشہ چرچ گیٹ سے پانچ بج کر پچاس منٹ کی ٹرین میں سوار ہوتے تھے لیکن اس روز ان کی وہ ٹرین چھوٹ گئی اور انہوں نے پانچ ستاون کی ٹرین لی۔ موت ان کا پیچھا کس طرح کر رہی تھی اس کا ان کی بیوی کو شدت سے افسوس ہے۔ ’وہ ہمیشہ سیکنڈ کلاس سے سفر کرتے تھے لیکن صرف ایک روز قبل ہی انہوں نے فرسٹ کلاس کا پاس بنوایا تھا‘۔ سیفورڈ سیلس کا چہرہ ٹھیک ٹھاک تھا لیکن ان کے جسم کے پرخچے اڑ چکے تھے۔ آج ان کی بیوہ اپنی دس سالہ بچی کے ساتھ دنیا میں تنہا ہو چکی ہے۔ بائیس سالہ کنال رجنی کانت شاہ کو اسی ماہ پانچ دن قبل ہی پہلی تنخواہ ملی تھی وہ میگھنا پبلیکیشن میں مینجمنٹ ٹرینی کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ٹرین کے فرسٹ کلاس میں انہوں نے اپنی سیٹ کسی اور کو دے دی اور خود دروازے میں آکر کھڑے ہوگئے ۔اس کے بعد ان کی لاش ہی گھرواپس پہنچ سکی۔
ملٹن پلاسٹک کمپنی میں کام کرنے والا انیس پٹیل گھر نہیں لوٹا۔ بوریولی کی پٹھان چال میں رہنے والی اس کی بیوہ ریحانہ آج بھی سکتے کی حالت میں ہے۔ اب اس کا کوئی سہارا نہیں رہا۔ اس کا اپنا کوئی گھر بھی نہیں ہے۔ صالح انٹرپرائزز کے مالک صالح ماہم ٹرین بم دھماکہ میں ہلاک ہو چکے ہیں اور اپنے پیچھے اپنی ضعیف ماں، بیوہ رخسانہ اور چار چھوٹے بیٹوں کو چھوڑ گئے ہیں۔ جو اس واقعہ میں زندہ بچ گئے ہیں ہیں ان کی اپنی دکھ بھری داستانیں ہیں۔ کے ای ایم ہسپتال میں آج بھی چار شدید زخمی زندگی اور موت سے لڑ رہے ہیں۔ انیس سالہ وکرانت کھانویلکر ممبئی کے ولسن کالج میں سائنس (باٹنی ) کے تیسرے سال کا ہونہار طالب علم ہے لیکن آج سر پر شدید چوٹ کی وجہ سے بوریولی کے کرونا ہسپتال میں بے ہوش پڑا ہے۔ اسے دیکھنے کے لیئے کالج لیکچرار اور اس کے دوستوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ باپ ستیش اور ماں سندھیا کی واحد اولاد وکرانت کے بارے میں ڈاکٹروں کو خدشہ ہے کہ کہیں وہ کوما میں نہ چلا جائے۔ سنیل چندر کانت کارنک اور سید امتیاز شیخ سائن ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور خالد صدیقی بوریولی کے کرونا ہسپتال میں۔ بم دھماکے نے ان کی قوت سماعت کو متاثر کیا ہے۔ سنیل سارسوت پیشہ سے بینکار، سید امتیاز ریلوے ملازم اور خالد صدیقی ایچ ڈی ایف سی بینک میں سکیورٹی کے شعبہ میں ملازم ہیں۔ سینکڑوں زخمیوں کی طرح وہ بھی پریشان ہیں کہ اگر سننے کی قوت بحال نہیں ہوئی تو ملازمت چلے جانے کا خطرہ ہے۔ سائن ہسپتال کے ڈین ڈاکٹر ایم ای ایولیکر کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں ساٹھ فیصد زخمیوں کی قوت سماعت متاثر ہوئی ہے۔ |
اسی بارے میں ممبئی دھماکے: ذمہ دار کون؟12 July, 2006 | انڈیا دھماکے: تحقیقات جاری ، ٹھوس ثبوت نہیں ملے13 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: ’سیمی‘ کی مذمت 13 July, 2006 | انڈیا ’پتہ نہیں اب کہاں سے لاش آئی ہے‘14 July, 2006 | انڈیا ممبئی حملہ آوروں کے خاکوں کی تیاری14 July, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||