ممبئی دھماکے:مسلم صحافی گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسداد دہشت گردی عملہ کے سربراہ کے پی رگھوونشی نے بتایا کہ انہوں نے اردو اخبار کے ایک صحافی دانش ریاض کو گرفتار کر لیا ہے۔ دانش ریاض کو سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ (سیمی ) سے مبینہ تعلق اور بم دھماکہ کے ملزمان کو تعاون دینے جیسے الزامات ہیں ۔ دانش ریاض ممبئی کے ایک موقر روزنامہ اردو ٹائمز کے ساتھ منسلک ہیں۔ پولیس نے انہیں میرا روڈ پر واقع ان کی رہائش گاہ سے چند روز قبل تفتیش کے لیئے حراست میں لیا تھا لیکن پیر کے روز ان کی باضابطہ گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ اے ٹی ایس عملہ نے دانش ریاض کو عدالت میں پیش کر کے چودہ دن کا عدالتی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ اخبار کے مینجنگ ایڈیٹر معین احمد نے اس سلسلہ میں وضاحت کی ہے کہ دانش ریاض ان کے ہاں عارضی ملازم تھے اور ان کی ملازمت کے دوران اخبار کو کبھی اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ وہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ اردو ٹائمز کے ایڈیڑ نے کہا کہ دانش ریاض ایک سنجیدہ اور قابل صحافی ہیں اور وہ ایران کی حکومت کی دعوت پر کئی صحافیوں کے ساتھ ایران کا دورہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ ای ٹی ایس نے اب تک سیمی کے جتنے بھی رضا کار گرفتار کیئے ہیں ان پر الزام ہے کہ وہ ایران کے راستہ مبینہ طور پر تربیت کے لیئے پاکستان گئے تھے۔ پولیس نے اس سے قبل میرا روڈ سے ہی احتشام کو گرفتار کیا تھا اور دانش ریاض احتشام کا روم پارٹنر ہے ۔پولیس کے مطابق دانش ریاض سیمی پر پابندی کے بعد بھی اس کا سرگرم ممبر ہے۔ دریں اثناء پولیس نے دانش کے ساتھ پہلے سے ٹرین بم دھماکوں میں گرفتار تین ملزمان کمال ، ممتاز اور خالد کو عدالت میں پیش کیا۔پہلی مرتبہ پولیس نے کمال کو جوگیشوری بم دھماکوں میں باضابطہ طور پر ملوث قرار دیا۔ اس سے پہلے جب گرفتاری عمل میں آئی تھی تب پولیس نے عدالت میں کہا تھا کہ انہیں قتل، اقدام قتل، فساد برپا کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے لیکن پولیس ان دھماکوں میں ان کا اصل رول ابھی طے نہیں کر پائی ہے ۔ عدالت نے کمال کو چودہ اگست تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ۔ گیارہ جولائی کو سلسلہ وار ٹرین بم دھماکوں کی تفتیش جاری ہے عملہ نے نو افراد کو گرفتار بھی کر لیا لیکن اے ٹی ایس اور دیگر تفتیشی ایجنسیاں ابھی تک اصل ملزم تک نہیں پہنچ سکی ہیں ۔ انسداد دہشت گردی عملہ کے سربراہ جوائنٹ پولیس کمشنر کے پی رگھوونشی نے اس کا اعتراف بھی کیا ان کا کہنا تھا کہ اس حملہ میں اصل ملزمان کون ہیں اور کس کا سازشی ذہن کام کر رہا ہے اس کے لیئے انہوں نے سیمی جیسی تنظیم کے رضاکاروں کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی ہے تاکہ اس طرح وہ اصل ملزمان تک پہنچ سکے۔ اے ٹی ایس کے نشانے پر وہ سیمی اراکین بھی ہیں جو ایران کے ذریعہ مبینہ طور پر پاکستان گئے تھے۔ | اسی بارے میں ممبئی دھماکوں کے بعد پہلا رابطہ31 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: ای میل پر گرفتاری19 July, 2006 | انڈیا ٹرین دھماکے: تین ملزمان گرفتار 21 July, 2006 | انڈیا ممبئی گرفتاریاں، سچ کیا ہے؟23 July, 2006 | انڈیا ’میرے بیٹے کا دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں‘24 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||