BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 July, 2006, 10:32 GMT 15:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میرے بیٹے کا دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں‘

ڈاکٹر تنویر کی رہائش گاہ ممبئی کے گنجان آباد علاقے میں واقع ہے
ممبئی کی تنگ اور گنجان گلیوں میں سے ایک ’چال نمبر چار‘ لوگوں اور ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے کیونکہ یہاں کے رہائشی ڈاکٹر تنویر کو ممبئی کرائم برانچ نے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔

ڈاکٹر تنویراحمد انصاری ممبئی کے حاجی صابو صدیق میٹرنٹی ہوم اینڈ جنرل ہسپتال میں رہائشی ڈاکٹر اور رجسٹرار کے عہدے پر فائز ہیں۔

تنویر ممبئی سینٹرل میں مومن پورہ کی بلڈنگ نمبر چار میں اپنے والد ابراہیم، والدہ شمس النساء، اپنی بیوی اور بڑے بھائی کے ہمراہ بچپن سے ہی رہتے ہیں۔ تین منزلہ عمارت کے ایک چھوٹے سے کمرے کے باہر موجود تنویر کی والدہ شمس النساء کا کہنا تھا کہ ’میرا بیٹا بےگناہ ہے، اس نے کچھ نہیں کیا ہے۔ مجھے اپنی تربیت پر پورا بھروسہ ہے‘۔

ڈاکٹر تنویر نے ناگپور سے بی یو ایم ایس (یونانی میڈیسن ) میں ڈگری حاصل کی تھی اور اس کے بعد انہوں نے ممبئی کے فوزیہ نرسنگ ہوم میں پریکٹس شروع کی۔ کچھ عرصہ قبل بھی کرلا میں سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی ) کے دفتر سے انہیں پولیس نے گرفتار کیا تھا جس کے بعد وہ سترہ دنوں کے لیئے پولیس حراست میں رہے تھے۔

’صرف شک کی بنیاد پر بےگناہ کو اس طرح گرفتار کرنا ناانصافی ہے‘

ان کی والدہ شمس النساء کا اس بارے میں کہنا تھا کہ’اس روز وہ اپنے دوستوں سے ملنےگیا تھا لیکن تقدیر کی بات ہے کہ اسی وقت پولس کا چھاپہ پڑا اور اسے بھی گرفتار کر لیا گیا ۔اس کے بعد سے آج تک وہ عدالت کی ہر تاریخ پر حاضر ہوتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ وہ صوم و صلٰوۃ کا پابند ہے لیکن یہ کسی کی گرفتاری کی وجہ نہیں بن سکتی ۔اگر میرے بیٹے نے کچھ کیا ہے تو اسے ضرور سزا ملے لیکن صرف شک کی بنیاد پر بےگناہ کو اس طرح گرفتار کرنا ناانصافی ہے کیونکہ اس طرح میرے بیٹے کا مستقبل تباہ ہو سکتا ہے‘۔

ہسپتال کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالرؤف سمار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر تنویر ان کے ہسپتال میں کافی عرصہ سے ملازم ہیں ۔ وہ ایک ایماندار اور محنتی ڈاکٹر ہیں۔ آر ایم او اور رجسٹرار کے طور پر وہ ہسپتال کے سٹاف اور مریضوں میں کافی مقبول بھی ہیں۔ ڈاکٹر سمار کا کہنا ہے کہ ان کا چالیس فیصد سٹاف غیر مسلم ہے لیکن ڈاکٹر تنویر کا رویہ سب سے بہت اچھا تھا۔

 یہ صحیح ہے کہ وہ صوم و صلٰوۃ کا پابند ہے لیکن یہ کسی کی گرفتاری کی وجہ نہیں بن سکتی ۔اگر میرے بیٹے نے کچھ کیا ہے تو اسے ضرور سزا ملے لیکن صرف شک کی بنیاد پر بےگناہ کو اس طرح گرفتار کرنا ناانصافی ہے کیونکہ اس طرح میرے بیٹے کا مستقبل تباہ ہو سکتا ہے۔
شمس النساء

ہسپتال کے اکاؤنٹنٹ سفیان انصاری کے مطابق ڈاکٹر تنویر ایک اچھے ڈاکٹر اور اچھے انسان ہیں۔ بم دھماکوں کے روز بھی وہ ہسپتال میں تھے اور اس سے پہلے بھی انہوں نے ہسپتال سے کبھی رخصت نہیں لی ۔ان کی ڈیوٹی صبح دس بجے سے رات دس یا گیارہ بجے تک رہتی تھی۔ سفیان کے مطابق جمعہ کے روز نماز عشاء کے بعد رات تقریباً دس بجے تین افراد آئے اور انہیں بتایا کہ وہ کرائم برانچ سے آئے ہیں اور ڈاکٹر تنویر کو تفتیش کے لیئے حراست میں لیا جا رہا ہے۔

اے ٹی ایس کے سربراہ رگھوونشی کا دعٰوی ہے کہ انہوں نے پختہ ثبوت کی بناء پر ہی یہ گرفتاریاں کی ہیں۔ ان کے مطابق ملزمان کی سرگرمیوں پر اے ٹی ایس کی نظر تھی۔ تاہم پولیس ابھی تک ان گرفتار شدہ ملزمان کے خلاف یہ طے نہیں کر پائی ہے کہ آخر ان دھماکوں میں ان کا کردار کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اے ٹی ایس اب ممبئی اور ملک بھر میں ’سیمی‘ کے کارکنان پر نظر رکھ رہی ہے اور انہیں حراست میں لے کر تفتیش کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ ممبئی میں چند برسوں قبل کرلا میں ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ’سیمی‘ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

اسی بارے میں
زندگی تھم گئی ہے
18 July, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد