ممبئی دھماکوں کے بعد پہلا رابطہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈھاکہ میں سارک اجلاس کے دوران انڈیا اور پاکستان کے خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات کا امکان ہے۔ جولائی کے اوائل میں ہونے والے ممبئی بم دھماکوں کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان یہ پہلا سفارتی رابطہ ہوگا۔ ’جامع مذاکرات‘ کے تحت دونوں اہلکاروں کی ملاقات بیس، اکیس جولائی کو ہونی تھی لیکن بم دھماکوں کے بعد ہندوستان نے یہ ملاقات مؤخر کر دی تھی۔اطلاعات کے مطابق بھارتی خارجہ سیکرٹری شیام سرن اپنے پاکستانی ہم منصب ریاض محمد خان سے ملاقات میں شدت پسند سرگرمیوں کی مبینہ طور پر پاکستانی امداد کا معاملہ اٹھا سکتے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ملاقات سے قبل ڈھاکہ میں مسٹر سرن نے کہا ہے کہ ہندوستان امن مذاکرات جاری رکھنا چاہتاہے لیکن ’پاکستان کو دہشتگردی کا سلسلہ ترک کرنا ہوگا خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو‘۔ مسٹر سرن کا کہنا تھا کہ ممبئی بم دھماکوں کے باوجود ہندوستان نے امن مذاکرات کو روکنے کے بارے میں نہیں سوچا اور دونوں ملکوں کے درمیان عوامی سطح پر معمول کے مطابق بات چیت جاری رہنے کے ساتھ ساتھ سرحد پر بھی صورتحال معمول پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ’پاکستان کے لیئے یہی پیغام ہے کہ دونوں ملکوں کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا‘۔ ممبئی دھماکوں کے بعد ہندوستان نے کہا تھا کہ’دھماکوں سے جس قسم کی تباہی مچی ہے وہ پاکستان کی مدد کے بنا ممکن نہیں تھی‘۔ اس پر پاکستان نے ان دھماکوں کی تفتیش میں تعاون کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا کہ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزام عائد کرنا مناسب نہیں۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان گزشتہ تین برس سے امن مذاکرات جاری ہیں اور اس دوران کئی مرتبہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا ماحول پیدا ہو چکا ہے۔ | اسی بارے میں دہشتگردوں کی فتح ہوئی ہے: مشرف20 July, 2006 | پاکستان ’پاک انڈیا دوستی کیلیئے جہوریت ضروری‘18 July, 2006 | پاکستان پاک انڈیا مذاکرات: ’منفی پیش رفت‘17 July, 2006 | پاکستان بھارتی الزامات غیرمصدقہ: پاکستان14 July, 2006 | پاکستان ’دھماکوں کو کشمیر سے نہیں جوڑا‘12 July, 2006 | پاکستان دھماکوں پر پاکستان کی مذمت 11 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||