پاک انڈیا مذاکرات: ’منفی پیش رفت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سکریٹری خارجہ ریاض محمد خان نے انڈیا کی طرف سے دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کا آئندہ ’راؤنڈ‘ مؤخر کرنے کے فیصلے کو ’منفی پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ میں پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاض محمد خان نے کہا ہے کہ انڈیا کے دفتر خارجہ نے باضابطہ طور پر مربوط مذاکرات یا کمپوزٹ ڈائیلاگ کے اگلے راؤنڈ کو جو کہ بیس اور اکیس جولائی کو نئی دہلی میں ہونے والا تھا مؤخر کر دیا ہے اور وقت کا کوئی تعین نہیں کیا کہ یہ کب تک کے لیئے مؤخر کیا جا رہا ہے۔ ممبئی بم دھماکوں کے حوالے سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انڈیا کی طرف سے اس سلسلے میں باضابط طور پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ سکریٹری خارجہ نے کہا کہ یہ الزامات صرف اخبارات اور بیانات کی حد تک محدود ہیں۔ ممبئی بم دھماکوں کی تفتیش کے بارے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں انڈیا سے تعاون کرنے کے لیئے تیار ہے اور اس بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف بھی تعاون کی پیش کش کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کو دہشت گردی کی وارداتوں سے مشروط کرنا بے محل اور بے معنی بات ہے۔ ریاض محمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کی ان بہیمانہ وارداتوں کی بڑی واضح الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کرنے کے حوالے سے پاکستان پر ڈالے جانے والے دباؤ کے بارے میں جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں جو کچھ کیا اتنا کسی دوسرے ملک نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے القاعدہ کی کمر توڑ دی ہے اور اس کو عالمی سطح پر سراہا بھی گیا ہے۔
ریاض محمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جو اقدامات کر رہا ہے وہ اس یقین کے ساتھ کر رہا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ اس کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں صدر جنرل مشرف کے دورہ بھارت کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں دونوں ملکوں نے اعلان کیا تھا کہ دہشت گردی کی وارداتوں کی بنیاد پر امن مذاکرات کو معطل نہیں کیا جائے گا۔ ان مذاکرات کے جلد شروع ہونے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف انڈیا کو ان مذاکرات کے انعقاد کی تاریخیوں کو تعین کرنا ہے۔ ریاض محمد خان نے کہا کہ مذاکرات کو مؤخر کیئے جانے کو ’ڈیڈ لاک‘ قرار دینا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیئے مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا۔ مذاکرات کے ایجنڈے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اب تک مذاکرات کے تین دور ہوچکے ہیں اور اس مرحلے پر اب تک ہونے والی پیش رفت پر نظر ثانی کی جانی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اعتماد سازی کے لیئے ہونے والے کمپوزٹ ڈائیلاگ دونوں ملکوں کے درمیان دیرپا امن کے لیئے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہیں۔ ریاض محمد خان نے کہا ہے کہ یہ خطے میں پرامن فضا قائم کرنے کی پاکستان کی پالیسی کا بھی حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈائیلاگ پیس پروسس کا بھی اہم حصہ اور دونوں ملکوں کے لیئے ضروری ہیں۔ | اسی بارے میں خارجہ سیکرٹری مذاکرات ملتوی14 July, 2006 | انڈیا ’دھماکوں میں سرحد پار کا ہاتھ ہے‘14 July, 2006 | انڈیا ’اب امن کا عمل مشکل ہوگیا ہے‘15 July, 2006 | انڈیا پاکستان کیلیئے بھارتی موقف میں سختی15 July, 2006 | انڈیا ممبئی بم حملے: کشمیر امن عمل بھی متاثر14 July, 2006 | انڈیا ثقافتی فروغ پر پاک انڈیا بات چیت 01 June, 2006 | انڈیا جرائم اور منشیات، پاک انڈیا مذاکرات21 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||