BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 July, 2006, 16:10 GMT 21:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی بم حملے: کشمیر امن عمل بھی متاثر

ہندوستان اور پاکستان میں ’مخصوص مفاد‘ رکھنے والی قوّتوں نے ساڑھے تین سال سے جاری امن کوششوں کر سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے: محبوبہ مفتی
گیارہ جولائی کو ممبئی میں ہونے والے بم حملوں کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے نمایاں آثار سے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے سیاسی حلقے بے چینی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

ممبئی دھماکوں کے بعد جب ہندوستان کی جانب سے کرخت بیانات جاری ہونے لگے تو وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کے علاوہ حکمران اتحاد کے اہم رکن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی اور حزب اختلاف کے سربراہ عمر عبداللہ نئی دلی کے لیئے روانہ ہوئے۔ محبوبہ مفتی کا خیال ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں ’مخصوص مفاد‘ رکھنے والی قوّتوں نے ساڑھے تین سال سے جاری امن کوششوں کر سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’پچھلے چند سال میں جمہوری عمل کی بدولت امن نواز پارٹیوں پر لوگوں کا اعتماد بحال ہونے لگا تھا۔ ایسے واقعات (سرینگر اور ممبئی دھماکے) سے سارا کیا کرایا ضائع ہو جاتا ہے۔‘

نیشنل کانفرنس کے صدر عُمرعبداللہ کو یقین ہے کہ اعتماد سازی کا عمل یکسر ختم نہیں ہوگا تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’امن عمل نہایت اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جو ہم سب کے لیئے ایک چیلنج ہے۔‘

اس سوال پر کہ ’اندرونی سازش‘ کے تاثرات کس حد تک درست ہیں، عمر عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا، ’ہندوستان چاہتا تو امن عمل سے ویسے بھی ہاتھ کھینچ سکتا تھا، اس کے لیئے کافی جواز موجود تھا، خود وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ سرحد پار سے دراندازی میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ میں یہ نہیں مانتا کہ ہندوستان امن عمل کو سست کرنے کے لیے دو سو لوگوں کی بلی چڑھائےگا (یا قربانی دے گا)۔‘

ہندوستان چاہتا تو امن عمل سے ویسے بھی ہاتھ کھینچھ سکتا تھا، اس کے لئے کافی جواز موجود تھا: عمر عبداللہ

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سخت موقف رکھنے والی خاتون تنظیم دختران ملّت کی صدر آسیہ اندرابی کو موجودہ صورتحال سے کوئی تعجب نہیں ہوا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہند پاک دوستی کا سلسلہ جب اصل مسئلہ یعنی مسئلہ کشمیر کی جانب رخ کرنے لگتا ہے تو کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے۔ اسی لیئے ہم دوستیوں کی نوٹنکی کو اہمیت نہیں دیتے۔ ناچ گانے اور کرکٹ کھیلنے سے دوستی نہیں ہوتی۔ مسئلہ کشمیر حل کرو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘

نئی دلّی اور اسلام آباد کے ساتھ کشمیر پر دو طرفہ مذاکرات کی حامی حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین پروفیسر عبدالغنی بھی مانتے ہیں کہ ممبئی اور سرینگر دھماکوں کے بعد صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں امن عمل دو ہی رُخ اختیار کر سکتا ہے، اور وہ ہے ٹکراؤ یا مفاہمت۔ پروفیسر غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر ہندوستان اور پاکستان نے ٹکراؤ کا راستہ اپنایا تو دونوں ملکوں کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر بھی ختم ہو جائےگا۔‘

پروفیسر غنی کہتے ہیں ’پانچ سال پہلے جب سرحدوں پر گیارہ ماہ تک دونوں
ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے تھیں، کسی نے ایک گولی بھی نہیں چلائی اور بالآخر دونوں کا غصہ پیار میں بدل گیا۔ آج تو پورے خطے میں نیوکلیائی ہتھیاروں کی دوڑ کا مسئلہ درپیش ہے، آج وہ ٹکراؤ کو افورڑ نہیں کر سکتے۔‘

ناچ گانے اور کرکٹ کھیلنے سے دوستی نہیں ہوتی۔ مسئلہ کشمیر حل کرو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا: آسیہ اندرابی

کشمیر کے تعلق سے حالات میں عین اُس وقت کشیدگی واقع ہوئی ہے جب نئی دلی نے مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلؤوں کا جائزہ لینے کے لیئے پانچ ورکنگ گروپ قائم کئے تھے، اور حریت کانفرنس سمیت تمام جماعتوں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا تھا۔ اعتماد سازی کے اقدامات کے سلسلے میں کنٹرول لائن پر سرینگرمظفرآباد روڈ کے علاوہ پونچھ راولاکوٹ بس لنک کی بحالی کو تاریخ ساز اہمیت حاصل ہے۔

مبصرین کو خدشہ ہے کہ حالیہ حملوں سےعلیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کا اگلا دور اور تیسری گول میز کانفرنس کا انعقاد بھی کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔

مقامی تبصرہ نگار سیدین وقار کا کہنا ہے کہ ’امن عمل کا معنی خیز نتیجہ یہ تھا کہ ہندنواز اور ہند مخالف حلقے ایک ہی آواز میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی بات کرنے لگے تھے۔ اگلے انتخاب میں دو سال سے کم عرصہ رہ گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اگر ہندوستان ممبئی دھماکوں کو جواز بنا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے تو ہندنواز سیاستدان اپنی کشمیر نواز پالیسی کا دفاع کس طرح کریں گے۔ مذاکرات کے حامی علیٰحدگی پسند گروہوں کے لئے بھی چیلنج ہے کہ وہ بات چیت جاری رکھنے کے موقف کو کیسے صحیح ثابت کریں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد