جرائم اور منشیات، پاک انڈیا مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منظم جرائم، جسم فروشی اور منشیات جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیئے سترہ برس بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان دو روزہ بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ انڈیا کے دارالحکومت دلی میں جاری تکنیکی سطح کی اس بات چیت میں ’سارک پول‘یعنی سارک ملکوں کے درمیان پولیس کا تعاون اور آباد کاری جیسے موضوعات پر بھی غور کیا جائے گا۔ انڈیا کے مرکزي تفتیشی بیورو ’سی بی آئی‘ کے ڈائریکٹر وجے شنکر انڈین وفد کی سربراہی کر رہے ہیں اور پاکستان کی تحقیقاتی ایجنسی ’ایف آئی اے‘ کے ڈاکٹر طارق پرویز پاکستانی وفد کے سربراہ ہیں۔ انڈین وفد میں سی بی آئي کے کئی اعلی اہلکار اور انسدادِ منشیات ادارے کے اہلکاروں سمیت وزارتِ داخلہ اور خارجہ کے نمائندگان بھی شامل ہیں۔دوسری جانب پاکستان کے وفد میں ایف آئی اے کے اعلی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ پاکستانی دفترِخارجہ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انڈیا بات چیت میں انٹر پول سےحاصل ہونے والے تمام معاملات کو سامنے رکھے گا اور ان معاملات کی تحقیقات میں پاکستان کی مدد کا خواہش مند رہے گا۔ پچھلے کئی برسوں سے انڈیا پاکستان پر انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کو واپس بھیجنے پر زور دے رہا ہے۔ انڈین انٹیلی جنس کی رپورٹ کے مطابق داؤد اس وقت پاکستان میں ہی ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا 1999 میں انڈین ائرلائن کی ایک پرواز کی ہائی جیکنگ کے معاملے میں ملوث اغواء کاروں کو بھی واپس انڈیا لانے کی کوشش میں ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ملک سارک ممالک کی سرحدوں پر ہونے والے جرائم پر قابو پانے کے لیئے یورپ کی طرح ’سارک پول‘ پولیس بنانے کی تجاویز پر بھی غور کریں گے۔ | اسی بارے میں ’کشمیر: جرات اور نرمی کا متقاضی‘18 January, 2006 | انڈیا مذاکرات کا تیسرا دور شروع17 January, 2006 | انڈیا ابو سالم کون ہے11 November, 2005 | انڈیا قونصل خانے کھولنے پر اتفاق28 June, 2004 | انڈیا مشروط مذاکرات نامنظور: حریت10 August, 2004 | انڈیا سیاچن: بھارت، پاک مذاکرات06 August, 2004 | انڈیا پاک بھارت مذاکرت 27 جون سے01 June, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||