دہشتگردوں کی فتح ہوئی ہے: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے جمعرات کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مشرق وسطی میں بگڑتی ہوئی صورت حال کو مذاکرات کے ذریعے حل کرانے کے لیئے فوری اقدامات کرے۔ مشرق وسطی کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ شام اور ایران بھی اس بحران کی لپیٹ میں نہ آ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران اور شام اس کی لپیٹ میں آ گئے تو پاکستان کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں پاکستان کو اپنی سلامتی اور سیکیورٹی کو یقینی بنانا چاہیے اور ایسا ان کے مطابق اندرونی یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔
ممبئی بم دھاکوں کے بعد بھارت کی طرف سے مذاکرات کو ملتوی کیے جانے کو صدر مشرف نے دہشت گردوں کی فتح قرار دیا ہے اور ایک مرتبہ پھر انڈیا کو ان دھماکوں کی تفتیش میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اور حکومت اور وہ بذات خود ان دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم سب انتہا پسندی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف خود ایک جدوجہد میں لگا ہوا ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان اس جدوجہد کو کامیابی سے آگے بڑھا رہا ہے ۔ ممبئی کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ ’ہمیں ممبئی میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر شدید صدمہ ہوا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’میں ان کے رشتہ داروں سے تعزیت کرتا ہوں۔‘ ممبئی کے عوام سے انہوں نے کہا کہ ’یقین مانیے کے پاکستان خود دہشتگردی کا شکار ہے لیکن ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی ان کی نظر میں شکست کی پہلی نشانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے بنیاد الزام تراشی نہیں کرنی چاہیے اور بہت تحمل کے ساتھ اس بارے میں بات کرنی چاہیے۔ انڈیا کی حکومت سے انہوں نے کہا کہ پاکستان پوری طرح سے ممبئی بم دھماکوں میں ملوث عناصر کی نشاندہی میں مکمل تعاون کرنے کے لیئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا کی حکومت کے پاس ثبوت ہیں تو وہ پاکستان کو فراہم کرے۔ علاقائی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورت حال میں تبدیلی آئی ہے۔
انہوں نے کہا اب صورت حال القاعدہ سے تبدیل ہو کر طالبان کی طرف چلی گئی ہے اور طالبان کا مرکز جنوبی افغانستان میں قندھار بن گیا ہے جہاں ملا عمر ان کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے کچھ عناصر قبائلی علاقوں میں بھی موجود ہیں جو قبائلی علاقوں کے علاوہ افغانستان میں بھی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ صدر مشرف نے مزید کہا کہ پاکستان ان عناصر کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور طالبان کے خلاف ایک نئی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ القاعدہ کو ختم کرنے کے بعد اب ان علاقوں میں طالبان کی کارروائیوں کو ختم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کا گڑھ جنوبی افغانستان قندھار میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ’بیک ورڈ کلچر‘ پاکستان کے دیگر علاقوں میں لے جانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا اس کلچر سے میں ٹی وی سیٹ توڑے جا رہے ہیں، موسیقی سننے پر ممانعت ہوتی ہے، مردوں کو زبردستی داڈھی رکھنے پر مجبور کیا جاتاہے اور نائیوں کو دڑاھیاں مونڈھنے پر سزا دی جا تی ہے۔ انہوں نے کہا اس کو زبردستی مسلط کیا جارہا ہے اور اس کو انہوں نے ’طالبانائزیزیشن‘ کا نام دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور اس نئی حکمت علمی میں فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ اور اقدامات بھی کیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ا س حکمت علمی کے تحت پولیٹکل ایجنٹ کے ادارے کو مضبوط کیا جائےگا، ان کو ایک فورس مہیا کی جائے گی اور فاٹا سیکریٹریٹ کو از سر نو ترتیب دیا جائے گا تاکہ اس کو موثر بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ قبائیلی ملکوں کے اثر و رسوخ کو بحال کیا جائے گا اور وہ پولیٹکل ایجنٹوں کے ساتھ ملک کر اپنے علاقوں میں ترقیاتی کام کریں گے۔ اس کے ساتھ فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی اور فاٹا میں کم از کم دس ارب روپے سالانہ ترقیاتی کاموں پر صرف کیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئے گورنر اس حکمت عملی پر عملدرآمد کرائیں گے اور وہ ان کو سلسلے میں پوری اتھارٹی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے گرینڈ جرگہ تشکیل دیا جارہا ہے لیکن اس سلسلے کچھ بنیادی نکات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلا نکتہ یہ ہے کہ کسی غیر ملکی کو علاقے میں رہنے نہیں دیا جائے گا۔ یا اس کو علاقے چھوڑنا ہو گا یا اس کو مار دیا جائے گا۔تیسری صورت میں اسے ہتھیار ڈالنا ہوں گے اور پھر اسے وہاں رہنے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے کسی کو افغانستان جا کر تخریبی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور طالبانائزیشن کے کلچر کو ختم کریں گے۔ |
اسی بارے میں پاکستان کیلیئے بھارتی موقف میں سختی15 July, 2006 | انڈیا ’اب امن کا عمل مشکل ہوگیا ہے‘15 July, 2006 | انڈیا امن کا موقع ضائع نہ کریں: مشرف18 July, 2006 | پاکستان صدر مشرف کا قوم سے خطاب شروع20 July, 2006 | پاکستان ممبئی: حملہ آوروں کا سراغ نہیں ملا18 July, 2006 | انڈیا تفتیش، مدد کے لیئےتیار ہیں:مشرف14 July, 2006 | پاکستان لبنان کے اندر شدید لڑائی20 July, 2006 | آس پاس مشرق وسطیٰ بحران کا حل آسان نہیں17 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||