BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 July, 2006, 16:53 GMT 21:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشتگردوں کی فتح ہوئی ہے: مشرف

فائل فوٹو: جنرل پرویز مشرف
صدر جنرل پرویز مشرف نے جمعرات کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مشرق وسطی میں بگڑتی ہوئی صورت حال کو مذاکرات کے ذریعے حل کرانے کے لیئے فوری اقدامات کرے۔

مشرق وسطی کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ شام اور ایران بھی اس بحران کی لپیٹ میں نہ آ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران اور شام اس کی لپیٹ میں آ گئے تو پاکستان کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں پاکستان کو اپنی سلامتی اور سیکیورٹی کو یقینی بنانا چاہیے اور ایسا ان کے مطابق اندرونی یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔

پاکستان کی سکیورٹی
 اگر ایران اور شام اس کی لپیٹ میں آ گئے تو پاکستان کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں پاکستان کو اپنی سلامتی اور سیکیورٹی کو یقینی بنانا چاہیے اور ایسا ان کے مطابق اندرونی یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔
صدر پرویز مشرف
صدر مشرف نے کہا کہ حماس اور حزب اللہ کے بعد لبنان پر اسرائیل کے کھلم کھلا حملے سے یہ تنازعہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیئے فلسطین کے مسئلہ کو حل کرنا ہوگا جس کے پوری دنیا پر دورس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ممبئی بم دھاکوں کے بعد بھارت کی طرف سے مذاکرات کو ملتوی کیے جانے کو صدر مشرف نے دہشت گردوں کی فتح قرار دیا ہے اور ایک مرتبہ پھر انڈیا کو ان دھماکوں کی تفتیش میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اور حکومت اور وہ بذات خود ان دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم سب انتہا پسندی کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف خود ایک جدوجہد میں لگا ہوا ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان اس جدوجہد کو کامیابی سے آگے بڑھا رہا ہے ۔

ممبئی کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ ’ہمیں ممبئی میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر شدید صدمہ ہوا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’میں ان کے رشتہ داروں سے تعزیت کرتا ہوں۔‘ ممبئی کے عوام سے انہوں نے کہا کہ ’یقین مانیے کے پاکستان خود دہشتگردی کا شکار ہے لیکن ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘

ممبئی والوں سے تعزیت
 ہمیں ممبئی میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر شدید صدمہ ہوا ہے۔ میں ان کے رشتہ داروں سے تعزیت کرتا ہوں۔ یقین مانیے کے پاکستان خود دہشتگردی کا شکار ہے لیکن ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
جنرل پرویز مشرف
تاہم انہوں نے انڈین حکومت کے رویہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ صدر مشرف نے کہا کہ دہشت گرد نہیں چاہتے کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی ان کی نظر میں شکست کی پہلی نشانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے بنیاد الزام تراشی نہیں کرنی چاہیے اور بہت تحمل کے ساتھ اس بارے میں بات کرنی چاہیے۔

انڈیا کی حکومت سے انہوں نے کہا کہ پاکستان پوری طرح سے ممبئی بم دھماکوں میں ملوث عناصر کی نشاندہی میں مکمل تعاون کرنے کے لیئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا کی حکومت کے پاس ثبوت ہیں تو وہ پاکستان کو فراہم کرے۔

علاقائی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورت حال میں تبدیلی آئی ہے۔

طالبان : نئی حکمت عملی
 طالبان کے کچھ عناصر قبائلی علاقوں میں بھی موجود ہیں جو قبائلی علاقوں کے علاوہ افغانستان میں بھی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان ان عناصر کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور طالبان کے خلاف ایک نئی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔
جنرل پرویز مشرف
انہوں نے کہا کہ ’پہلے ہم القاعدہ کے خلاف لڑ رہے تھے۔‘ صدر مشرف نے کہا پاکستان نے القاعدہ کی کمر توڑ دی ہے اور شہروں میں القاعدہ کے چھ سو کے قریب پکڑے اور ان کا پہاڑوں میں بھی پیچھا کیا۔

انہوں نے کہا اب صورت حال القاعدہ سے تبدیل ہو کر طالبان کی طرف چلی گئی ہے اور طالبان کا مرکز جنوبی افغانستان میں قندھار بن گیا ہے جہاں ملا عمر ان کی قیادت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے کچھ عناصر قبائلی علاقوں میں بھی موجود ہیں جو قبائلی علاقوں کے علاوہ افغانستان میں بھی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ صدر مشرف نے مزید کہا کہ پاکستان ان عناصر کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور طالبان کے خلاف ایک نئی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔

صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ القاعدہ کو ختم کرنے کے بعد اب ان علاقوں میں طالبان کی کارروائیوں کو ختم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کا گڑھ جنوبی افغانستان قندھار میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ’بیک ورڈ کلچر‘ پاکستان کے دیگر علاقوں میں لے جانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا اس کلچر سے میں ٹی وی سیٹ توڑے جا رہے ہیں، موسیقی سننے پر ممانعت ہوتی ہے، مردوں کو زبردستی داڈھی رکھنے پر مجبور کیا جاتاہے اور نائیوں کو دڑاھیاں مونڈھنے پر سزا دی جا تی ہے۔ انہوں نے کہا اس کو زبردستی مسلط کیا جارہا ہے اور اس کو انہوں نے ’طالبانائزیزیشن‘ کا نام دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور اس نئی حکمت علمی میں فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ اور اقدامات بھی کیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ا س حکمت علمی کے تحت پولیٹکل ایجنٹ کے ادارے کو مضبوط کیا جائےگا، ان کو ایک فورس مہیا کی جائے گی اور فاٹا سیکریٹریٹ کو از سر نو ترتیب دیا جائے گا تاکہ اس کو موثر بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ قبائیلی ملکوں کے اثر و رسوخ کو بحال کیا جائے گا اور وہ پولیٹکل ایجنٹوں کے ساتھ ملک کر اپنے علاقوں میں ترقیاتی کام کریں گے۔ اس کے ساتھ فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی اور فاٹا میں کم از کم دس ارب روپے سالانہ ترقیاتی کاموں پر صرف کیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نئے گورنر اس حکمت عملی پر عملدرآمد کرائیں گے اور وہ ان کو سلسلے میں پوری اتھارٹی دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے گرینڈ جرگہ تشکیل دیا جارہا ہے لیکن اس سلسلے کچھ بنیادی نکات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلا نکتہ یہ ہے کہ کسی غیر ملکی کو علاقے میں رہنے نہیں دیا جائے گا۔ یا اس کو علاقے چھوڑنا ہو گا یا اس کو مار دیا جائے گا۔تیسری صورت میں اسے ہتھیار ڈالنا ہوں گے اور پھر اسے وہاں رہنے کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے کسی کو افغانستان جا کر تخریبی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور طالبانائزیشن کے کلچر کو ختم کریں گے۔

کشمیر امن مذاکرات
ممبئی دھماکوں کے امن کوششوں پر اثرات
ممبئیتفتیشی دائرہ وسیع
ممبئی پولیس کا رخ اب بنگلہ دیشیوں کی جانب
لبنانی بچہاسرائیلی بمباری
سات لاکھ لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں: ریڈ کراس
اسرائیل کا مقصد؟
لبنان پر حملوں سے اسرائیل کا مقصد کیا ہے؟
حزب اللہ کے کارکنحزب اللہ کیا ہے؟
لبنان کی مزاحمتی تحریک اور اس کے مقاصد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد