BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن کا موقع ضائع نہ کریں: مشرف

صدر مشرف
پاکستانی صدر نے سب سے پہلے دھماکوں کی مذمت کی تھی
صدرجنرل پرویز مشرف نےایک مرتبہ پھر انڈیا سے کہا ہے کہ کھوکھلے الزامات لگانے کے بجائے اگر ان کے پاس ممبئی دھماکوں کے بارے میں کوئی ثبوت ہے تو وہ پاکستان کو فراہم کریں اور ’ہم اس تفتیش میں مکمل تعاون کریں گے‘۔

منگل کو نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےصدر جنرل پرویز مشرف نے انڈیا کی طرف سے خارجہ سیکریٹریوں کے مذاکرات کو ملتوی کیئے جانے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ دہشتگردی کی وارداتوں کی بنا پر امن مذاکرات کا ملتوی کیا جانا دہشتگردوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم دہشت گردی کی ان وارداتوں کی وجہ سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان دائمی امن قائم ہونے کے تاریخی موقع کو ضائع نہیں ہوں دیں گے‘۔

صدر کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس کو وزیرستان میں امن قائم کرنے کے لیئے جرگے اور ایک مشاورتی کونسل کی تشکیل کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ قبائلی عمائدین اور ملکوں کے ادارے کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے غربت اور پسماندگی کو دور کرکے حکومت کے اقتدار اعلٰیٰ کو بحال کیا جانا چاہیئے۔

بلوچستان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ کوہلو برکھان اور ڈیرہ بگٹی کے علاقوں میں شدت پسندو ں کی کمین گاہوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ان علاقوں میں شدت پسندوں کو سخت جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ان کی قیادت پسپا ہو رہی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ہزاروں کی تعداد میں فراریوں نے، جن میں کئی اہم کمانڈر بھی شامل ہیں، ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید افراد ہتھیار ڈال دیں گے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیرہ بگٹی سے جو لوگ نقل مکانی کر گئے تھے ان کی واپسی اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں امن و اماں کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔

اجلاس نے ملک میں مدارس کے اندراج کے کام کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں گیارہ ہزار آٹھ سو بائیس مدارس میں سے پانچ ہزار پانچ سو گیارہ مدارس کا اندراج کیا جا چکا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال چار سو اٹھہتر غیر ملکی طلباء کوسفری دستاویزات نہ ہونے کے باعث ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سات سو چوراسی غیر ملکی طالب علموں کے پاس این او سی نہ ہونے کی بنا پر ان کو ملک بدر کیئے جانے کا کام مکمل کیا جا رہا ہے۔

قومی سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں صدر کے علاوہ وزیر اعظم شوکت عزیز، چیئرمین سینیٹ، سپیکر نیشنل اسمبلی، چاروں صوبوں کے گونروں اوروزراء اعلٰی، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف اور پاک فضائیہ کے سربراہ نے شرکت کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد