BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 July, 2006, 07:17 GMT 12:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاک انڈیا دوستی کیلیئے جہوریت ضروری‘

عاصمہ جہانگیر
آئی ایس آئی کو پاکستان کے اندر انہیں سب کچھ کرنے کی اجازت ملی ہوئی ہے: عاصمہ جہانگیر
پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ جب تک پاکستان میں جمہوریت نہیں لائی جائے گی ہندوستان سے دوستی قائم نہیں ہو سکےگی۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا: ’پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو استعمال کر کے ہماری فوجیں ہم ہی پر قابض ہیں، جرنیل ہم پر حکومت کرتے ہیں۔‘

وہ پریس کلب لاہورمیں پیر کے روز جنوبی ایشیا میں امن کے موضوع پر ہونے والے ایک سیمنیار سے خطاب کر رہی تھیں۔ اس سیمینار کا اہتمام پاک بھارت فورم برائے امن و جمہوریت اور یونائیٹڈ سینٹر آف پیس نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

سیمینار کے مقررین نے ممبئی میں ہونے والے دھماکوں کی مذمت کی اور دونوں ملکوں کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں جواز بنا کر امن عمل کو نہ روکیں۔

عاصمہ جہانگیر نے اپنے خطاب میں پاکستانی فوج کے ذیلی ادارے انٹر سروسز انٹیلجنس یعنی آئی ایس آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’اُسے بیرون ملک کارروائی کے لیے رکھا گیا ہے لیکن یہ پاکستان کے اندر بھی مصروف عمل ہے اور پاکستان کے اندر انہیں سب کچھ کرنے کی اجازت ملی ہوئی ہے۔‘

عاصمہ جہانگیر نے حالیہ اخباری رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چند افراد لڑکیوں کو چھیڑتے پکڑے گئے اور جب ان کا تعلق خفیہ ایجنسی سے نکلا تو انہیں چھوڑ دیا گیا۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ’انہیں اس لیے چھوڑا گیا کیونکہ انہیں بیرون ملک استعمال کیا جاتا ہے اور پھر انہی کو استعمال کرکے ہماری فوجیں ہم پر قابض رہتی ہیں۔‘

سیمنار کے مقررین نے ممبئی میں ہونے والے دھماکوں کی مذمت کی

انہوں نے کہا کہ ’اس کا نقصان صرف ہمسایوں کو نہیں بلکہ خود پاکستان کو ہورہا ہے ہماری سوسائٹی بکھر رہی ہے۔ ہماری آنے والی نسلیں اس ملک میں رہنا نہیں چاہتیں اور جو بیرون ملک ہیں ان پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں کہ ان کا تعلق ایک ایسے ملک ہے جہاں لوگ بمباری کرتے ہیں اور جہاد کی کھلے عام بات ہوتی ہے اور کہاجاتا ہے کہ جب تک فلاں مسائل حل نہیں ہوں گے یہ تو ہوتا رہے گا۔‘

انہوں نے ممبئی بم دھماکوں کے تناظر میں کہا کہ’ یہ کوئی تحریک نہیں ہے یہ خالصتاً غنڈہ گردی ہے ، ایک گھناؤنا اقدام ہے جس کی ہر کسی کو مذمت کرنا ہوگی۔‘

انہوں نے کہا ’ہندوستان کو یہ کہنا عجیب ہوگا کہ اس نے کیا سوچ کر ہم پر انگلی اٹھائی ہے ،اب دنیا آنکھیں بند کر کے نہیں رہے گی۔‘

انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ نے کہا کہ ’آج پاکستان کے باشعور لوگوں کو اس کی مذمت کرنی چاہیے اور اپنی سرکار کو اور اپنے وردی والوں کو کہنا چاہیے کہ وہ خود بھی جائیں اور اپنے ساتھ دہشت گردی کو بھی لے جائیں۔‘

انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان میں جمہوریت نہیں ہوگی اس وقت تک پاکستان، بنگلہ دیش اورنیپال سے پاکستان کی پائیدار دوستی قائم نہیں ہوسکتی۔

ہندوستانی وزیر اعظم من موہن سنگھ اور پاکستانی صدر پرویز مشرف میں ایک ملاقات ہونی چاہیے: ڈاکٹر مبشر حسن

پاک بھارت فورم برائے امن و جمہوریت کے سرکردہ رکن ڈاکٹر مبشر حسن نے کہا کہ ’ممبئی میں بیک وقت سات دھماکے کرانا اور پھر دھماکے کرنے والوں کو بحفاظت بیرون ملک منقتل کردینا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ ایک منظم کارروائی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ’ ہندوستانی حکومت کا حق بنتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ اتنا بڑا واقعہ ہوا ہے تو انہیں جس ملک پر شبہ ہے اس سے گلے نہ ملے اور پہلے تحقیق کی جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سیکرٹری کی سطح پر ہونے والے مذاکرات ملتوی کردینے سے مخاصمت کا اشارہ نہیں ملتا۔ اس کا مطلب ہے کہ (ہندوستان کہتا ہے ) ہم تم سے ناراض نہیں لیکن اگر کوئی ثبوت ملے تو بات کو اوپر کی سطح پر لے جانا ہوگا اور کچھ اقدامات کرنا ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس وقت ہندوستانی وزیر اعظم من موہن سنگھ اور پاکستانی صدر پرویز مشرف میں ایک ملاقات ہونی چاہیے تاکہ دہشت گردی کے متعلق فیصلے کیے جائیں کیونکہ اب اسی سے معاملات آگے بڑھیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سن دوہزار چار میں واجپئی ا ور مشرف ملاقات میں جو فیصلے ہوئے تھے اس کے نتیجے میں آج تک صلح جوئی کی جانب معاملات چل رہے ہیں۔‘

ہال میں مختلف پوسٹر اور بینر لگے تھے جن پر نعرے درج تھے

انسانی حقوق کمیشن کے ڈائریکٹرآئی اے رحمان نے کہا کہ’ بعض ایسے لوگ ہیں جوتصادم کو ہوا دے کر ووٹ لیتے ہیں اپنا اسلحہ بیچتے ہیں۔ان کے مفاد میں ہے کہ پاکستان اور بھارت میں امن نہ ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ’ دونوں ملکوں کے عوام کو بند کمروں سے باہر نکل کر سڑکوں پر آ کرامن کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔‘

دانشور اور صحافی حسین نقی نے کہا کہ پاکستان میں کچھ انتہا پسند لوگوں کو ریاست سے ماورا طاقت حاصل ہوچکی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ امن کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوں۔

سیمینار سے تہمینہ زمان، عزیز مظہر سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے ممبئی بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے دونوں ملکوں میں امن عمل جاری رکھنے کے ضرورت پر زور دیا۔

ہال میں مختلف پوسٹر اور بینر لگے تھے جن پر درج تھا ’امن کی راہیں کھول دو‘،’جنوبی ایشیا میزائلوں کی زد میں‘،’امن کے لیے جدوجہد ہر حالت میں لازم ہے‘،’دونوں بنیں گے امن کا نشان پاکستان۔۔۔۔ہندوستان‘

اسی بارے میں
دلی میں پاک انڈیا پیپلز فورم
26 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد