نیویارک: ایک شہر جو بدل گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے سٹیفن ایونز جو گیارہ ستمبر کے دھماکے کے وقت نیویارک میں تھے اب دوبارہ نیو یارک گیے ہیں، یہ دیکھنے کہ وہ شہر پانچ سال بعد کیسا دکھائی دیتا ہے۔ جو نیویارک دس ستمبر سنہ دو ہزار ایک کو تھا اس میں اور آج کے نیویارک میں کئی واضح فرق ہیں۔
ٹوِن ٹاور نیویارک کا ایک ایسا واضح نشان تھا جو جو پورے مین ہیٹن پر حاوی تھا۔ زیر زمین ریل کے سٹیشن سے آپ کے باہر نکلتے اور نظریں اوپر اٹھاتے ہی وہ آپ کی سامنے ہوتا تھا۔ مثلاً اگر اب آپ سیونتھ ایونیو سے دیکھیں تو آپ کو لگتا ہے کہ جو وہاں تھا اب نہیں ہے۔ وہاں سے کھلے آسمان کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ جیسے جسم کا کوئی عضو موجود نہ ہو، جیسے دانتوں میں سے سامنے کے دو دانت غائب ہوں۔ اس کے علاوہ نیویارک میں ایک دم سے دکھائی نہ دینے والی، خاموش تبدیلیاں بھی آ چکی ہیں۔ ڈاؤن ٹاؤن ایک عظیم تجارتی مرکز تھا۔ وال سٹریٹ کو اگر دنیا کی سٹاک مارکیٹ کا دارالخلافہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ وال سٹریٹ اب بھی وہیں پر ہے لیکن جو لوگ اس میں کام کرتے تھے وہ اب کہیں اور کام کرتے ہیں۔ گیارہ ستمبر کے حملوں نے کئی فنانس کمپنیوں کو وال سٹریٹ کی قدیم عمارتوں میں قائم دفاتر سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہ دفاتر جب سے شہر کی دوسری جدید عمارتوں میں منتقل ہوئے ہیں تو واپس نہیں لوٹے۔
کچھ لوگ اب ڈاؤن ٹاؤن میں رہنے کو اچھا نہیں سمجھتے۔ احساس یہ پایا جاتا ہے کہ اس جگہ موت کی بو آتی ہے۔ اس کے علاوہ نیویارک کے لوگ بھی بدل گئے ہیں۔ کسی سے بات بات کریں اس کے پاس سنانے کو اپنی یہ کہانی ہے کہ وہ گیارہ ستمبر کے دن کیا کر رہا تھا۔ ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ آپ دو طیاروں کو معصوم لوگوں سے بھری دو عمارتوں سے ٹکراتے دیکھیں اور آپ اس کے بارے میں سوچیں نہ۔ ڈیوڈ کو ہی لے لیجیئے۔ وہ اب بھی ’ڈیلی نیوز‘ کے فوٹوگرافر ہیں لیکن وہ اب صرف کھانے پینے کی چیزوں کی تصویریں بناتے ہیں۔ ان کے خیال میں کاروں کے حادثوں اور جرائم کی دنیا کی تصاویر سے بہتر ہے انسان کھانے کی تصویریں بنائے جنہیں دیکھ کر ہر کوئی خوش ہوتا ہے۔ ڈیوڈ شاید وہ پہلے فوٹو گرافر تھے جو گیارہ ستمبر کو موقع پر پہنچے تھے کیونکہ وہ دوسرے طیارے کے ٹاور سے ٹکرانے سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے ٹاوروں پر سے چھلانگ لگاتے لوگوں کو کیمرے کی آنکھ سے دیکھا تھا اور اسی کوشش میں خود ملبے تک دب گئے تھے۔ انہیں آگ بجھانے والے عملے نے زخمی حالت میں ملبے سے نکالا تھا۔ وہ بہت حد تک بدل چکا ہے۔ اب اس کی کار میں بیٹھ کر شہر کا چکر لگانا ایک بہت ہی پرسکون تجربہ ہے۔ اس لاری والا اس کے آگے سے گزرتا ہے تو وہ مسکرا کر کہتا ہے: ’آپ جایئے، آپ میرے سے بڑے ہیں۔‘ ’اپنے بچوں کے ساتھ ایک اچھا دن میرے لیئے دنیا کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔‘ ڈیوڈ کے لیئے پانچ سال کا یہ سفر نفسیاتی بحالی کا ایک طویل اور تکلیف دہ عمل تھا۔ اس عرصے میں ان مناظر کے ساتھ نبرد آزما ہوتا رہا جو اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ ’جب آپ بچے ہوتے ہیں تو آپ بستر کے نیچے موجود جِنوں سے ڈرتے ہیں۔ آپ جب کوئی آواز سنتے ہیں تو سہم جاتے ہیں۔ آپ کی ماں یا باپ آپ کے پاس آکے آپ کو تسلی دیتے ہیں۔ آپ فلیش لائٹ کے ساتھ اپنے بیڈ کے نیچے دیکھتے ہیں کہ وہاں کوئی جِن تو نہیں چھپا ہوا۔‘ ’میرے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ میرے ارد گرد چھوٹے چھوٹے بھوتنے ہیں۔‘ ’میرے خیال میں جو کوئی بھی نیویارک میں رہتا ہے یا اس نے گیارہ ستمبر کو کچھ دیکھا ہے یا کسی کو کھویا ہے، اس کے بستر کے نیچے ہر وقت بھوتنوں کا ایک غول چھپا رہتا ہے۔ گاہے گاہے یہ بھوتنے بستر کے نیچے سے باہر آتے ہیں، لوگوں کا تمسخر اڑاتے ہیں، ان کو کاٹتے ہیں اور ان کے ساتھ کھیلتے ہیں۔‘ ’پس آپ ان سے کھیلتے ہیں اور انہیں واپس اپنے بستر کے نیچے بھیج دیتے ہیں۔ یہ بھوتنے کبھی پانچ منٹ بعد، کبھی، پانچ دن بعد اور کبھی پانچ ماہ بعد باہر نکل آتے ہیں اور آپ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ دوبارہ شروع کر دیتے ہیں۔ آپ کو اپنے بھوتنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ آپ سے کہتے ہیں ’آپ کو معلوم ہیں جناب، اب آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ آپ سے اگلی ملاقات چھ ماہ میں ہو گی۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||