BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 September, 2006, 07:12 GMT 12:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
9/11: سعودی عرب میں تبدیلی کا آغاز
سعودی عرب میں سیاسی نظام میں اصلاحات کی باتیں کی جا رہی ہیں
پانچ سال قبل گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں امریکہ کے شہر نیویارک میں کیے گئے دہشت گردی کے حملوں نے سعودی عرب میں بڑے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور ان حملوں کے بعد سے ملک میں تبدیلیوں کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حملے کرنے والے انیس میں سے پندرہ افراد سعودی شہری تھے اور ان افراد کی نشاندہی کے بعد سعودی عرب میں جنم لینے والے شدت پسندوں کی کارروائیوں پر اب مزید پردہ نہیں ڈال سکتا جس کی وہ کئی سال سے کوششیں کررہا ہے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے سعودی عرب جیسا روایت پسند اور سخت گیر مذہبی نظریات کا حامل ملک بین الاقوامی سطح پر یکایک ناپسندیدہ اور قدرے کڑی نظروں کا نشانہ بنا۔

ان حملوں نے سعودی انتظامیہ کو مجبور کیا کہ وہ عوامی سطح پر یہ اعلان کریں کہ اسلامی شدت پسندوں نے ملک میں اپنی جڑیں پھیلا لی ہیں۔

امریکہ میں اس خبر نے کہ دہشت گردوں میں سے پندرہ سعودی تھے، عوام میں غصہ اور بے چینی پیدا کردی۔ امریکہ نے سعودی عرب پر شدت پسندوں پر قابو پانے کے لیئے دباؤ بڑھانا شروع کردیا۔

ریاض نے اس دباؤ کے جواب میں عوامی سطح پر اپنے امیج کو بہتر بنانے کے لیئے کرڑوں ڈالر کی عوامی رابطہ مہم شروع کی تاہم اس مہم سے اس کے خراب تصور کو بہتر بنانے میں کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ سعودی نظام میں اصلاحات کی باتیں ہونے لگیں اور سیاسی، ثقافتی حتی کہ مذہبی موضوعات جن پر اس سے قبل بات کرنا ہی ممنوع تھا، ان پر بھی کھلے عام بحث کی جانے لگی۔

سخت زبان استعمال کرنے والے مبلغین کو نرمی کے احکامات جاری کرنے کے علاوہ مذہبی پولیس کو ایسے افراد کی نگرانی کے فرائض سونپے گئے۔

سعودی ذرائع ابلاغ کو بھی کسی قدر آزادی ملی تاہم ان تبدیلیوں کی وجہ سے ملک کے اندر 2003 میں شدت پسندوں نے پے در پے حملے کیے۔

 گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سعودی نظام میں اصلاحات کی باتیں ہونے لگیں اور سیاسی، ثقافتی حتی کہ مذہبی موضوعات جن پر اس سے قبل بات کرنا ہی ممنوع تھا، ان پر بھی کھلے عام بحث کی جانے لگی

ملک کی سلامتی کے خطرے کے پیش نظر سعودی انتظامیہ نے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں اور کئی جنگجو لڑائی کے دوران مارے گئے اور بہت سے دوسرے افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان افراد کے خلاف بھرپور مہم چلائی گئی جو تشدد کے لیئے اسلام کی آڑ لیتے ہیں۔

ملک میں سیاسی اصلاحات کا آغاز کیا گیا اور اسی پس منظر میں گزشتہ سال پہلی بار بلدیاتی انتخابات مننعقد کیے گئے۔ اگرچہ ان انتخابات میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں تھا اور نہ ہی یہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھے۔

اب سعودی عرب میں نظام تعلیم میں بھی اصلاحات کی تحریک شروع ہو گئی ہے جس کا مقصد کتابوں سے سخت گیر مذہبی نظریات کو ختم کرنا ہے۔

ملک میں بیروزگاری پر قابو پانے کے لیئے معاشی اصلاحات بھی کی جا رہی ہیں کیونکہ بیروزگار افراد شدت پسندوں کا خاص نشانہ ہوتے ہیں۔

تاہم یہ تمام کوششیں محدود ہیں کیونکہ ملکی سطح پر دہشت گردی کے حملوں میں کمی اور تیل کے زرمبادلہ میں اضافے کی وجہ سے رواں سال اصطلاحات کے عمل میں تیزی مفقود تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد