سعودیہ: انتخابات میں جوش خروش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی مشرقی صوبے میں مقامی کونسلوں کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ہزاروں کی تعداد میں ووٹ ڈالے ہیں۔ سعودی عرب میں ہونے والے ان تاریخی انتخابات میں کچھ لوگ صبح سویرے ہیں ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں نے باہر جمع ہو گئے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں ہونے والے حالیہ انتخابات سے متاثر ہو کر شیعہ آبادی بھر پور طریقے سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ شیعہ اقلیت کا خیال ہے کہ انتخابات میں حصہ لے کر وہ اپنے مفادات کا بہتر طور پر تحفظ کر سکتے ہیں اور قومی مسائل میں موثر طور پر اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب میں ہونے والے ان انتخابات کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ ان انتخابات میں مقامی کونسلوں کے نصف ارکان کا انتخاب کیا جائے گا اورنصف کو نامذ کیا جائے گا جبکہ ان انتخابات میں عورتوں کوحصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ دمام میں واقع ایک پولنگ اسٹیشن ہر ووٹروں کی اتنی بڑی تعداد موجود تھی کہ پولیس کو مقررہ وقت کے بعد پولنگ اسٹیشن کے دروازے زبرستی بند کرنا پڑے۔ کچھ ووٹروں نے اس پرغصے کا اظہار کیا اور حکام پر الزام لگایا کہ وہ ان کو ووٹ ڈالنے کے حق سے زبردستی محروم کر رہے ہیں۔ تاہم انتخابات میں حصہ لینےوالے امیدواروں نے کہا کہ یہ دانستہ طور پر نہیں کیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||