حجاز میں انصاف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیل ہے تو سزا یافتہ مجرموں کی جگہ لیکن قانون کی عملداری یہاں بھی ہوتی ہے۔ یا کم از کم کی جانی چاہیے۔ لیکن بہت سے دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب پر بھی انسانی حقوق کی پامالی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ سعودی عرب کی مختلف جیلوں میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی قید ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق صوبہ سرحد سے ہے۔ سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں نےبی بی سی سے بات کرتے ہوئے نا انصافی کی شکایت کی۔ ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ ’ادھر قسم سے پاکستانیوں کا قدر نہیں ہے‘۔ کسی نے کہا کہ ’شکایت کرنے پر ہاتھ چھت سے باندھ دیئے جاتے ہیں اور صرف پاؤں کا انگوٹھا زمین پر ٹکا ہوتا ہے‘۔ ان لوگوں نے جیل سے موبائل فون پر بی بی سی سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جیل حکام کو پیسے دے کر فون حاصل کرتے ہیں۔ اس سوال پر کہ فون کے لئے پیسے کہاں سے آتے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ جیل میں سعودی عرب کے شہریوں کی خدمت کر کے کچھ کمائی کرتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرنے والے تقریباً سبھی افراد کو شکایت تھی کہ یا تو انہیں بغیر کارروائی کے لمبے عرصے تک حراست میں رکھا جاتا ہے اور یا پھر ان کی سزا پوری ہونے پر بھی ان کو رہائی نہیں ملتی۔ ایک قیدی کے مطابق ان کی جیل میں ایسے سینکڑوں پاکستانی قیدی ہیں جو اپنی سزائیں پوری کرنے کے باعث ’آؤٹ پاس‘ یعنی سفارہ نہ بننے کی وجہ سے رہائی نہیں پا سکے۔ یہ بھی شکایت کی گئی کہ جیل حکام واپسی کے ہوائی ٹکٹ کے نام قیدیوں سے پیسہ بٹورا جاتا ہے۔ جیلوں اور عدالتوں میں مبینہ طور پر ان لوگوں کے ساتھ سعودی شہریوں کے مقابلے میں زیادہ سخت برتاؤ کیا جاتا ہے۔ کوشش کے باوجود ان شکایات کے بارے میں جیل حکام یا پاکستانیوں کی کسی تنظیم کے کسی عہدیدار سے بات نہیں ہو سکی۔ اکثر لوگ ریکارڈ پربات کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ جیل میں بند افراد کے حقوق کا تحفظ اور ان کی سزا پوری ہونے کے بعد وطن واپسی کا بندوبست کرنا پاکستانی سفارتخانے اور قونصل خانے کی ذمہ داری ہے۔ قیدیوں کو سفارتخانے کے حکام کے رویے کے بارے میں بھی شکایت تھی۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ’یہ لوگ باہر سے آتے ہیں اور باہر سے چلے جاتے ہیں‘۔ پاکستانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مجرم لوگ ہیں، ان کی بات کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور ان پڑھ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اپنی سزاؤں کے بارے صحیح معلومات نہیں رکھتے۔ سعودی عرب میں ایک پاکستانی صحافی راشد حسین نے کہا کہ سفارتخانے کا عملہ زیادہ تر اس لئے بات نہیں کرتا کہ کیونکہ سعودی حکومت اسے تنقید سمجھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق پاکستانی کمیونٹی ویلفئیر افسران اچھا خاصا وقت جیلوں کے دورے کرنے میں گزارتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان افسران کے مطابق وہ لوگ منشیات کے مقدمات کو بالکل ہاتھ نہیں لگاتے۔ انہوں نے ان افسران کے حوالے سے بتایا کہ سفارتخانے کے لئے پیسے ادا کرنا ممکن نہیں اور وہ پاکستانی کمیونٹی کی مدد سے مالی امداد کرتے ہیں۔ راشد حسین نے کہا کہ سعودی عرب ایک بند معاشرہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ چند سال پہلے کے مقابلے میں حالات بہتر ہوتے ہیں، لیکن ابھی غیر سرکاری تنظیموں کو کام کرنے میں مشکلات ہیں اور جو چند ایک کام کر بھی رہی ہیں ان کو ابھی زیادہ قبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ پاکستان کے شہر پشاور میں قیدیوں کے بارے میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم سے تعلق رکھنے والے نور عالم نے کہا کہ ان قیدیوں کی شکایات سو فیصد درست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے عزیز و اقارب سعودی عرب میں مقیم ہیں عارضی پرمٹ بھی بن جاتا اور ٹکٹ کا بھی بندوبست ہو جاتا ہے۔ نور عالم نے کہا سعودی عرب میں قانون کی گرفت میں آنے والے زیادہ تر معصوم لوگ ہوتے ہیں جو سمگلرو ں اور ایجنٹوں کے دھوکے میں آجاتے ہیں۔ سعودی حکام کے رویے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ افراد نے اپنی حرکتوں کے باعث پوری قوم کے بارے میں منفی اثر قائم کرایا ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||