سعودیہ میں القاعدہ کا رہنما ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور مدینہ سے پولیس اور مشتبہ شدت پسندوں کے درمیان مسلح جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ مدینہ میں پولیس نے ایک چھاپے کے دوران سعودی عرب میں القاعدہ کے رہنما کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی وزارتِ داخلہ نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ صالح عوفی نامی شخص کو مدینہ میں فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ شخص سعودی عرب کو سب سے زیادہ مطلوب افراد میں سے ایک تھا اور ملک میں موجودہ تشدد کی لہر کا ذمہ دار بھی تھا۔ ریاض میں ہونے والی ایک اور جھڑپ میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں تاہم سعودی حکام نےاس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ جنرل منصور ال ترکی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مرنے والے افراد کی صحیح تعداد نہیں بتا سکتے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز کا کوئی اہلکار شامل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس مرنے والے افراد کی تعداد اور شناخت کے بارے میں تحقیق کر ہی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب پولیس نے مخبری کے بعد شہر کے شمالی حصے میں ایک علاقے کا محاصرہ کر لیا اور ایک مشتبہ شخص کی تلاش شروع کی۔ اس تلاشی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا جو کچھ دیر تک جاری رہا۔ یاد رہے کہ ماہِ اگست کے ابتداء میں امریکہ نے حفاظتی خدشات کی بناء پر سعودی عرب میں اپنے سفارت خانے دو دن کے لیے بند کر دیے تھے جبکہ برطانیہ اور آسٹریلیا کی جانب سے بھی حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||