القاعدہ رہنما کی ہلاکت کی خبر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں ایک ٹیلی ویژن چینل نے خبر دی ہے کہ مبینہ طور پر القاعدہ کےایک سینیئر رہنما کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے یونس محمد ابراہیم الحیاری کا تعلق مراکش سے بتایا گیا ہے اور ان کا نام سعودی حکام کی القاعدہ سے تعلق رکھنے والے چھتیس مطلوبہ افراد کی فہرست میں سب سے اوپر تھا۔ سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز سےایک شدت پسند کی ہلاکت تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے ہلاک ہونے والے شخص کا نام نہیں بتایا۔ سعودی عرب میں حالیہ سالوں میں دہشت گردی کے کئی حملے ہوئے ہیں۔ العربیہ نے یہ بھی خبر دی ہے کہ اس کارروائی میں دو شدت پسند زخمی بھی ہوئے ہیں لیکن حکام نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔ سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ ریاض کے ایک علاقے میں کارروائی کی گئی جہاں ان کے خیال میں کچھ مطلوب افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے لیکن انہیں کسی کے زخمی یا گرفتار ہونے کے بارے میں نہیں معلوم۔ مطلوبہ افراد کی گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی نئی فہرست میں زیادہ تر سعودی عرب کے شہری ہیں لیکن اس میں مراکش، چاڈ، یمن اور موریطانیہ کے شہری بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت نے دسمبر دو ہزار میں بھی ایک فہرست جاری کی تھی جس میں شامل دو کے علاوہ تمام افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ شدت پسند کی ہلاکت کا تازہ ترین واقعہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے سعودی عرب کے دورے کے فوراً بعد پیش آیا۔ وہ سنگاپور جاتے ہوئے سعودی عرب میں کچھ دیر کے لیے رکُے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||