’ملزم امریکہ کے حوالے کیا جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی ایک عدالت نے کہا ہے کہ لندن کے ایک زیر حراست مسلمان شہری کو امریکہ میں مقدمے کا سامنہ کرنے کے لیے امریکہ کے حوالے کیا سکتا ہے۔ لندن کے علاقے ٹوٹنگ سے تعلق رکھنے والے اکتیس سالہ بابر احمد کو پچھلے سال اگست میں لندن سے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بابر احمد کمپوٹر اور آئی ٹی کے ماہر ہیں اور ان پر الزام ہے کہ ان کا چیچنیا اور افغانستان میں سرگرم مسلمان انتہا پسندوں کے لیے چندہ جمع کرنے میں اہم کردار تھا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ بابر احمد کئی ایسی ویب سائٹ بھی چلاتے تھے جن میں مسلمانوں کو جہاد کرنے کے لیے کہا جاتا اور قتل پر اکسایا جاتا تھا۔ امریکہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ بابر احمد نے امریکی ریاست ایریزونا میں دہشت گردوں کا ایک تربیتی کیمپ بھی قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ بابر احمد کے وکیلوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اگر ان کو مقدمے کے لیے امریکہ کے حوالے کیا گیا تو ان کو گوانتنامو کے حراستی مرکز میں نظر بندی اور مجرم پائے جانے کی صورت میں سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کیس پر اب برطانوی وزیر داخلہ کو فیصلہ کرنا ہوگا اور اگر ان کا فیصلہ مسٹر احمد کے حق میں نہ ہوا تو وہ اس کے خلاف اپیل کر سکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||