’دہشتگردی کی سازش‘ کے الزامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں انسداد دہشت گردی پولیس نے آٹھ ایشیائیوں کے خلاف الزآمات عائد کردیے ہیں۔ ان آٹھ افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے امن عامہ خراب کرنے کی سازش کی تھی۔ ان افراد کے نام یہ ہیں: دھرن باروت، محمد نوید بھٹی، عبدالعزیز جلیل، عمر عبدالرحمن،جنید فیروز،ضیاءالحق، قیصر شفیع اور ندیم تارمحمد۔ سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کا کہنا ہےکہان پر فرد جرم بدھ کو عدالت عائد کی جائیں گی۔ ان آٹھ افراد سمیت تیرہ افراد کو تین اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔ دو کو بغیر کسی الزام کے چھوڑ دیا گیا تھا جبکہ دو کی دوبارہ تفتیش ہو رہی ہے اور ایک پر ممنوعہ ہتھار رکھنے کا الزام ہے۔ اس شخص کا نام میتھیو مونکس ہے۔ ان لوگوں کو لندن، لوٹن اور بلیکبرن کے شہروں میں چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ چھاپے پاکستان میں گرفتار کیے گئے کمپیوٹر کے ماہر نعیم نور خان کی گرفاتری کے بعد عمل میں آئے۔ خیال ہے کہ ان کے کمپیوٹر سے برطانیہ میں مقیم ان افراد کے نام اور پتہ معلوم ہو سکے۔ دھرن باروت پر یہ الزام بھی ہے کہ ان کے قبضے سے واشنگٹن میں آئی ایم ایف کی عمارت اور نیو یارک میں واقع سٹاک ایکسچینج اور سٹی بینک عمارتوں کے نقشے کے علاوہ دھماکہ خیز کیمیکل اور زہریلے مواد کے بارے میں بہت ساری معلومات برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ محمد شفیع کے قبضے سے امریکہ میں نیو جرسی میں پروڈینشل عمارت کے نقشے کے علاوہ دہشتگردوں کے دستی ہدایت نامے کی کاپی بھی برآمد ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||