سعودیہ: تین دن سے جاری لڑائی بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی حفاظتی دستوں کے ساتھ چھڑپوں میں کم از کم 14 مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ شدت پسندوں اور حفاظتی دستوں کے درمیان فائرنگ کا یہ سلسہ تین دن جاری رہا۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک شدگان میں دو اہم مشتبہ شدت پسند عبدالکریم المجاتی اور سعود حامد الطیبی شامل ہیں ۔ سعودی سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ دونوں ان 26 مشتبہ افراد کی فہرست میں شامل تھے جو حکومت کو مطلوب ہیں۔ سعودی افسران کے مطابق مشتبہ شدت پسندوں کے ساتھ حفاظتی دستوں کی یہ اب تک کی سب سے طویل لڑائی ہے۔ شمالی شہر الراس میں یہ لڑائی اس وقت ختم ہوئی جب حفاظتی دستوں نے اس گھر پر حملہ کر دیا جس میں مشتبہ شدت پسند چھپے ہوئے تھے۔ افسران کے مطابق اس جھڑپ میں 50 سے زیادہ سعودی افسر زخمی ہوئے ہیں۔ لڑائی اتوار کی صبح اس وقت شروع ہوئی جب پولیس افسران نے الراس میں ایک مکان کا محاصرہ کیا۔ صوبائی گورنر شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز نےسرکاری ٹی وی کو بتایا کہ بندوق بردار افراد نے نزدیک ہی ایک زیرِ تعمیر عمارت میں پناہ لے لی شدت پسندوں سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی گئی جو انہوں نے مسترد کر دی۔ بتایا جاتا ہے کہ مشتبہ شدت پسندوں نے حفاظتی دستوں پر بمبوں سے حملہ کیاجس میں کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ سعودی حفاظتی دستے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں جن پر غیر ملکیوں اور سرکاری افسران پر حملے کرنے کا الزام ہے۔ 2003 سے شدت پسندوں کی جانب سے حفاظتی دستوں کے ساتھ جھڑپوں اور خودکش دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان حملوں میں سعودیہ میں کام کرنے والےغیر ملکیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور ان حملوں کے لیے اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے والے گروپوں کو ذمہ دار ٹھرایا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||