BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 February, 2005, 05:42 GMT 10:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عرب دنیا کے منی گونتاناموبے
News image
گوانتانامو بے میں ایک قیدی
سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار نے ان شبہات کی تصدیق کی ہے کہ دھشت گردی میں ملوث درجنوں مشتبہ افراد کو مشرق وسطی کے ممالک میں بھیجا گیا ہے جہاں بغیر کسی عدالت کے حکم کے ان پر تشدد کیا جاتا رہا ہے۔

مائیکل شوئیر جنہوں نے 22 سال کے بعد سی آئی اے کی ملازمت چھوڑی ہے اور جو ایک وقت میں اسامہ بن لادن کی تلاش کی قیادت بھی کرچکے نے کہا کہ یہ کاروائی جسے ’غیر معمولی حراست‘ کہا جاتا ہے امریکہ کی نظر میں دھشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم ہتھیار ہے۔

انہوں نے بی بی سی کے ریڈیو پروگرام فائل آن فور کو بتایا’دھشت گردی میں ملوث کسی بھی شخص کو سڑک سے غائب کرنا ایک ضروری کاروائی ہے‘

مسٹر شوئیر نے بتایا کہ اس آپریشن کی اجازت سی آئی اے اور وائیٹ ہاؤس نے دی جب کے ان کے وکلاء نے اسے منظور کیا ہے۔

لوگوں کو پکڑ کر دوسرے یا تیسرے ممالک میں اس لئے بھیجا جاتا ہے کیوں کہ اعلی قیادت نے دھشت گردی کے سیل بند کروانے کی زمہ داری سی آئی اے کو سونپی ہے۔

اور جب ایجینسی نے قیادت سے پوچھا کہ ہم ان لوگوں کو کہاں لے کر جائیں تو جواب آیا ’یہ آپ کا کام ہے‘ انہوں نے مذید کہا کہ اگر کوئی یہ خواب دیکھتا ہے کہ یہ ایک آمرانہ آپریشن ہے تو یہ ایک بھول ہے۔ اگر میرے سینئیر اہلکار اس کی قانونی طور پر اجازت دیتے ہیں تو ذاتی طور پر مجھے اس سے کوئی اختلاف نہیں

اقوام متحدہ کے کنونشن کی خلاف ورزی

سی آئی اے کے سابق افسر نے یہ بھی اقرار کیا کہ کچھ مشتبہ افراد کو ایسے ممالک میں بھیجا گیا جہاں ان پر تشدد کیا جاسکے۔ ان ممالک میں مصر بھی شامل ہے۔

لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہم ان پر تشدد نہیں کرتے اور میرے خیال میں مصر اور سعودی عرب میں تشدد کے حوالے سے ہمارہ جو خاکہ پیش کیا گیا ہے اس میں ہالی وڈ کا خاصہ عمل دخل ہے‘۔

’انسانی حقوق خاصہ لچکدار نظریہ ہے اس کا دارو مدار اس پر ہے کہ کسی خاص دن آپ کتنے منافق ہو نے کے لئے تیار ہیں‘

News image

انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے اس ’غیر معمولی حراست‘ کا نظریہ ناقابل قبول ہے جبکہ صدر بش نے اقوام متحدہ کے تشدد کے بارے میں کنونشن کی حمائیت کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ملک کسی شخص کو ایسے ملک نہ بھیجے جہاں اس بات کو ماننے کی مناسب وجوہات ہوں کہ اس شخص کو وہاں تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا خطرہ ہوگا‘

مسٹر شوئیر ان دیگر سی آئی اے کے افسران میں شامل ہیں جنہوں نے پروگرام ’فائل آن فور‘ کو بتایا ہے کہ گونتاناموبے بھیجنے کے علاوہ سی آئی اے اور آرمی نے درجنوں افراد کو دیگر ممالک بھیجا جن میں اردن، شام اور مصر شامل ہیں۔

تفتیش کرنے والوں کو اس خطرے کا احساس ہے کہ معصوم لوگوں کو بھی ان ممالک میں بھیجا جاسکتا ہے جہاں خود امریکی وزارت داخلہ کے مطابق تشدد عام ہے۔

انہوں نے کینیڈا کے ایک باشندے، ماہر ارار کی کہانی بھی سنائی جسے سفر کے دوران ستمبر 2002 میں نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ پر امریکی حکام نے روکا اور پھر انہیں شام بھیج دیا گیا جہاں انہیں ایک سال رکھا گیا۔ مسٹر ارار نے بتایا کہ ان پر وہاں شدید تشدد بھی کیا گیا۔

اس حراست کی وجہ وہ خفیہ معلومات بتائی گئیں جو کینیڈا نے مسٹر ارار کے اٹاوہ کے ایک دھشت گرد سے ان کے مبینہ تعلق کے بارے میں امریکہ کو دیں۔

مسٹر ارار پیدائیشی طور شام کے باشندے ہیں لیکن ان کے پاس کینیڈا کی شہریت بھی ہے۔ شام لے جائے جانے کے بعد انہیں دمشق میں شام کی خفیہ پولیس کے ہیڈکوارٹر میں ایک چھوٹے سے سیل میں 10 ماہ تک رکھا گیا۔

آخر ایک دن 18 گھنٹوں کے تشدد کے بعد انہوں نے افغانستان جانے کا جھوٹا اقرار کرلیا۔

تفتیش کرنے والے نے پوچھا ’یہ کیا ہے؟‘ میں نے جواب دیا ’ایک کیبل‘ اسنے حکم دیا ’ہاتھ کھولو‘ اور پھر اسنے مجھے ایک ضرب لگائی جسکا درد شدید تھا۔

میں رودیا پھر اسنے مجھے بایاں ہاتھ کھولنے کو کہا اور پھر مارا اور مزید سوال پوچھے۔

ایک یا دو گھنٹوں کے بعد مجھے ایک ایسے کمرے میں بند کردیا گیا جہاں سے میں دوسرے لوگوں پر تشدد کئے جانے کی آوازیں سن سکتا تھا۔ لوگ چیخ رہے تھے اوہ اللہ اوہ خدایا۔

مسٹر ارار کو شام میں حراست کے ایک سال ختم ہونے میں تین دن پہلے اپنے گھر اٹاوہ بھیج دیا گیا۔

دونوں ممالک میں ان کے خلاف کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔ کینیڈا جہاں ان کے کیس کی وجہ سے ایک سیاسی مد وجزر برپا ہے اس ضمن میں ایک پبلک انکوائری جاری ہے۔

بجلی کے جھٹکے

اکتوبر 2001 میں آسٹریلیا کے ایک باشندے، ممدوح حبیب کو امریکی حکام نے پاکستان سے پکڑ کر مصر بھیج دیا۔

ممدوح حبیب
ممدوح حبیب امریکی حراست میں

اسے مصر میں 6 ماہ تک رکھا گیا۔ مسٹر حبیب نے بتایا کہ ان کو بجلی کے جھٹکوں سمیت شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں انہیں گونتاناموبے بھیج دیا گیا۔جہاں سے انہیں گزشتہ ماہ رہا کرکے واپس آسٹریلیا بھیج دیا گیا ہے۔

بی بی سی کے پروگرام ’فائل آن فور‘ نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اٹلی میں اس ضمن میں ایک سرکاری تفتیش جاری ہے کہ ایک مشتبہ اسلامی شدد پسند کو امریکی ایجنٹوں نے میلان کی سڑک سے اغوا کرکے مصر بھیج دیا ۔

’غیر معمولی حراست‘ پر تنقید کرنے والوں نے پروگرام ’فائل آن فور‘ کو بتایا کہ امریکی حکام نے برطانوی شہریوں کو برطانیہ اور بیرون ملک سے پکڑ کر گونتانامو بے اور عرب ممالک کی جیلوں میں پہنچایا ہے۔ یہ کاروائی برطانوی پولیس اور خفیہ اداروں کی امریکہ سے خفیہ معلومات کے تبادے کے معاہدے کی بنیاد پر کی گئی۔

ایک برطانوی تاجر، وہاب الراوی نے کہا کہ انہیں نومبر 2002 میں امریکی ایجنٹوں نے گیمبیا سے حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔ یہ حراست برطانوی حکام کی امریکہ کو دی جانے والی معلومات کے نتیجے میں عمل آئی۔

مسٹر وہاب کو رہا کردیا گیا لیکن ان کے بھائی اور بزنس پارٹنر کو گونتانامو بے بھیج دیا گیا جہاں وہ تاحال قید ہیں۔

یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ ان قیدیوں کی دنیا بھر میں تقل وحمل کے لئے وہ امریکی جہاز استعمال کئے گئے جو سینئیر کاروباری افراد سفر کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یہ جہاز اکثر برطانوی ہوائی حدود اور ہوائی اڈے بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ فائل آن فور کی ٹیم نے یہ بھی سراغ لگایا ہے اسی طرح کا ایک جہاز گزشتہ پیر کے روز گلاسگو میں تھا۔

برطانوی دفتر خارجہ کے ایک ترجمان نے پروگرام کو بتایا کہ وہ تشدد کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں لیکن کہیں سے بھی کوئی قابل اعتبار خفیہ معلومات کو استعمال کرنے کے امکان کو رد بھی نہیں کرسکتے اگر اس سے زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔

امریکا کی وزارت دفاع ، وزارت داخلہ اور سی آئی اے نے فائل آن فور کی طرف سے انٹرویو کی تمام درخواستیں رد کردی تھیں۔

چار ماہ بعد بھی الخوبر پر خوف طاریجان جائے یا ریال
چار ماہ بعد بھی الخوبر پر خوف طاری
گلوبلائزیشن کا ڈنڈاگلوبلائزیشن کا ڈنڈا
القاعدہ اور گلوبلائزیشن : از وسعت اللہ خان
دہشگردی پروٹوکول
’سارک اضافی پروٹوکول بھارتی قانون پوٹا جیسا ہے‘
 دہشت گردیدہشت گردی کیا؟
دہشتگردی کی تعریف کیوں متعین نہیں
القاعدہ کے لیے سال کیسا رہاالقاعدہ: سال کیسا رہا
سال دو ہزار تین کا رپورٹ کارڈ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد