| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ دہشت گردی کیا ہے؟
دہشت گردی اور اس سے متعلق عالمی معاہدوں کی بحث جتنی پرانی ہے اتنی ہی متنازعہ ہے- اقوام متحدہ ہو آسیان یا سارک دہشت گردی کے پروٹوکول ہمیشہ ہی ان فورم پر اختلافات پیدا کرتا ہے- یہ معاملہ کتنا حساس اور نازک ہے اس کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انیس سو ساٹھ کی دہائی سے لے کر اب تک اقوام متحدہ میں بھی اس مسئلے پر مکمل اتفاق نہیں ہو سکا- اصل میں سارا جھگڑا دہشت گردی کی تعریف کا ہے- اگر انفرادی یا تنظیمی کسی بھی سطح پر ہر قسم کے تشدد کو دہشت گردی کی تعریف میں شامل کر لیا جائے تو پھر دنیا کے مختلف حصوں میں جاری اُن تحریکوں یا آزادی یا اپنے حقوق کے لئے کی جانے والی جدوجہد کا کیا جائے؟ کیا انہیں دہشت گردی کی تحریکیں کہا جائے؟ اگر ایسا ہے تو پھر اپنے حقوق کے لئے لڑائی کرنے کو کیا کہا جائے گا؟ آخر کسی کا دہشت گرد کسی اور کا مجاہد بھی تو ہو سکتا ہے- یہی نکتہ دہشت گردی پر عالمی معاہدوں پر ہونے والی بحث کا مرکز ہے- امریکہ اور یورپ کا اصرار ہے کہ ’کسی بھی فرد یا گروپ کی طرف سے سویلین ٹارگٹس کو نشانہ بنانا‘دہشت گردی کی تعریف کا حصہ ہونا چاہئے لیکن پھر افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ مثال کے طور پر انگولا کے ان باغیوں کے بارے میں کیا کہا جائے جنہوں نے مسلح اور پرتشدد جدوجہد کی لیکن انہیں امریکہ کی حمایت حاصل تھی یا پھر برطانیہ کی? سابق وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کے اس بیان کا کیا کریں گے کہ جس میں انہوں نے جنوبی افریقہ کے مشہور رہنما نیلسن منڈیلا کی تنظیم کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا- اسلامی ممالک کا بھی یہی اصرار ہے دہشت گردی کی تعریف میں تشدد اور آزادی کی تحریکوں میں تفریق ضروری ہے- پاکستان بھی ابھی تک یہی موقف دہراتا رہا ہے لیکن سارک کے حالیہ اجلاس میں اضافی پروٹوکول پر دستخط کرنا یقیناٌ پاکستان کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی ہے اور دیکھا جائے توامریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے دنیا کے زیادہ تر عالمی ادارے دہشت گردی پر اپنی پالیسیاں تبدیل کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں- |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||