| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’اضافی پروٹوکول پوٹا سے قریب ہے‘
سارک کے انسداد دہشت گردی کے کنوینشن میں جس اضافی پروٹوکول پر دستخط کیے گئے ہیں اس میں بالواسطہ طور پر دہشت گردی کی تعریف کردی گئی ہے جو بھارت کے دہشت گردی کے خلاف قانون پوٹا سے قریب ہے اور اس معاہدہ کا دائرہ اقوام متحدہ کی دہشت گردی پر قرارداد سے زیادہ وسیع ہوگیا ہے۔ یہ بات لاہور میں عالمی قانون کے ماہر وکیل احمر بلال صوفی نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ سارک کے کنوینشن میں لایا گیا یہ اضافی اقوام متحدہ کی دہشت گردی کے خلاف منظور کی گئی قرار داد تیرہ سو تہتر سے زیادہ وسیع ہے حالانکہ کانفرنس میں کہا گیا تھا کہ اس پروٹوکول کا مقصد سولہ سال پرانے سارک کے کنوینشن کو اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق بنانا ہے۔ عالمی قانون کے ماہر کا کہنا ہے کہ سارک کے انسداد دہشت گردی کے پروٹوکول میں ہندوستان نے وہ شق شامل کرالی ہے جو یہ اقوام متحدہ میں زیر بحث انسداد ہشت گردی کے کنوینشن میں شامل کرانا چاہتا ہے لیکن وہاں اس کی مخالفت ہورہی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے انسداد دہشت گردی پر قرارداد منظور کرلی ہے لیکن جنرل اسمبلی میں اس پر کنوینشن لانے کے لیے ڈرافٹ پر بحث جاری ہے۔ احمر بلال کا کہنا ہے کہ اضافی پروٹوکول کے آرٹیکل چار میں جرم کی تعریف کی گئی ہے۔ اس میں ایک تو دہشت گردی کی ان تعریفوں کو جرم قرار دیا گیا ہےجو دہشت گردی کے بارے میں اس سے پہلے منظور کیے گئے دنیا کے بارہ معاہدوں میں درج ہیں۔ یہ معاہدے زیادہ تر مختلف مخصوص شعبوں کے بارے میں ہیں جیسے سمندری تنصیبات کو نقصان پہنچانا اور دہشت گردی کو مالی رقوم مہیا کرنا وغیرہ۔ احمر بلال کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بارہ میں سے دس معاہدوں پر دستخط کیے ہیں اور اب اس اضافی پروٹوکول میں بالواسطہ طور پر ان معاہدوں کی شقوں پر دستخط کرنے سے پاکستان ان کا بھی پابند ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار داد تیرہ سو تہتر جسے امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملہ کے بعد منظور کیاگیا دہشت گردی کی تعریف نہیں کرتی اور اس میں کہا گیا ہے کہ ’ہر دہشت گردی جرم ہے خواہ اس کا مقصد اور محرک کچھ بھی ہو۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد میں دہشت گردی کے واقعہ اور اس کےمحرک کو ایک دوسرے سے جدا کردیا گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ سارک کے اضافی پروٹوکول میں دہشت گردی کے واقعہ اور اس کے محرک میں تعلق قائم کردیا گیا ہے۔ احمر بلال کا کہنا ہے کہ سارک کے اضافی پروٹوکول میں کوئی ایسا کام جرم ہوگا جس کا مقصد کسی کو زخمی یا ہلاک کرکے کسی آبادی کو دہشت زدہ کرنا یا کہ حکومت کو کسی کام کے لیے مجبور کرنا یا روکنا ہو۔ یوں ان کے مطابق اس اضافی پروٹوکول میں دہشت گردی کی تعریف بھی کردی گئی ہے جو ہندوستان کے متنازع انسداد دہشت گردی قانون پوٹا میں کی گئی تعریف سے قریب ہے جس میں ہندوستان کے وفاق کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کاروائی کو دہشت گردی قرار دیا گیا ہے۔ ماہر قانون کا کہنا ہے کہ اضافی پروٹوکول میں کسی جرم کی یہ تعریف کشمیر میں حق خود ارادیت کے لیے لڑنے والے عسکریت پسندوں پر لاگو ہوسکتی ہے اور چونکہ یہ قانون اس جرم میں شامل لوگوں کو مالی رقوم مہیا کرنے کو بھی جرم قرار دیاتا ہے اس لیے ایسی تنظیمیں جو عسکریت پسندوں سے وابستہ ہیں اور ان کے لیے چندہ جمع کرتی ہیں ان پر اس کی زد پڑتی ہے۔ تاہم احمر بلال کا کہنا ہے کہ جو تنظیمیں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے سیاسی مطالبہ یا جدوجہد کی حمایت کرتی ہیں اس پر اس معاہدہ کا اطلاق نہیں ہوتا لیکن جو تنظیمیں حق خود ارادیت کے لیے عسکریت کی حمایت کرتی ہیں ان پر یہ لاگو ہوتا ہے۔ ماہر قانون کا کہنا ہے کہ اضافی پروٹوکول میں بینکوں سے متعلق بھی شقیں شامل ہیں اور اس معاہدہ کے نافذ ہونے کے بعد رکن ممالک کو منی لانڈرنگ کے بارے میں بھی نئے قانون بنانے پڑیں گے اور بینکوں کو شکایتی مرکز قائم کرنا ہوں گے۔ ماہر قانون کا کہنا ہے کہ سارک کے اس اضافی پروٹوکول پر رکن ملکوں نے دستخط کیے ہیں انہیں اس کی توثیق کرنا ہے جس کے بعد ہی یہ نافذالعمل ہوسکے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||