وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام |  |
 |  استحصال گلوبلائزڈ ہو گا تو مزاحمت بھی تو عالمگیر ہی ہو گی نا! |
جس طرح ایک سپر پاور کی دنیا میں عالمی سیاست گلوبلائزڈ ہے۔جیسے معیشت کے گلوبلائزڈ ہونے سے کوک کی جو بوتل قاہرہ کے رامیسس بس ٹرمینل سے لے کر بنگال کے قصبے جل پائی گڑی کے کھوکھے پر دستیاب ہے۔جیسے زرائع ابلاغ کی عالمگیریت کے سبب بی بی سی اور سی این این کی طرح کے چینلز فائیو اسٹار ہوٹل سے لے کر سندھ کے قصبے ننگر پارکر کے چرواہے کی آنکھ کی دسترس میں ہیں۔اُسی طرح اس دنیا میں اگر مزاحمت اور دہشت گردی بھی گلوبلائزڈ ہو گئے ہیں تو اس پر کیا برا منانا؟ استحصال گلوبلائزڈ ہو گا تو مزاحمت بھی تو عالمگیر ہی ہو گی نا! جس طرح ایک قوم کا دہشت گرد دوسری قوم کا حریت پسند ہو سکتا ہے ۔اُسی طرح استحصال اور مزاحمت کو بھی ہر شخص اپنے زاویہ نگاہ سے مختلف معنی پہنا سکتا ہے۔جس طرح سن پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں بالخصوص جنوبی امریکہ کی آمریتوں کے ہاتھ یہ نسخہ آ گیا تھا کہ جو بھی مخالف ہو اسے بائیں بازو کا انتہا پسند یا کیمونسٹ قرار دے کر قید کردو یا مار ڈالو اور جس طرح مشرقی یورپ کی کیمونسٹ حکومتیں کسی بھی مخالف کو سرمایہ داروں یا سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دے کر راندۂ درگاہ کر دیتی تھیں۔تقریباً اسی طرح آج انڈونیشیا سے ارجنٹینا تک سب حکومتوں کے لئے یہ نسخہ تیر بہدف ہے کہ جو واردات اور مسئلہ سمجھ میں نہ آۓ اسے القاعدہ کا نام دے دو۔اس سے قطع نظر کہ اٹھاۓ، پکڑے یا مارے جانے والوں میں القاعدہ کے ہمدرد کتنے تھے یا ہیں یا ہوں گے۔  | برا کیا منانا  عالمگیریت کے سبب بی بی سی اور سی این این کی طرح کے چینلز فائیو اسٹار ہوٹل سے لے کر سندھ کے قصبے ننگر پارکر کے چرواہے کی آنکھ کی دسترس میں ہیں۔اُسی طرح اس دنیا میں اگر مزاحمت اور دہشت گردی بھی گلوبلائزڈ ہو گئے ہیں تو اس پر کیا برا منانا؟  |
گیارہ ستمبر سے پہلے دنیا بھر میں جاری تحریکوں کا علیحدہ علیحدہ تعارف اور نام ہوا کرتا تھا۔جیسے چیچنیا کی علیحدگی پسند تحریک، بنیاد پرست الجزائری مسلمانوں کی تحریک، فلسطینی مزاحمت، آچے اور جنوبی فلپائن کی خود مختاری کی تحریک ، کشمیری علیحدگی پسند تحریک وغیرہ وغیرہ۔آج کی بین الاقوامی سیاسی لغت سے یہ نام غائب ہوتے جا رہے ہیں۔انکی جگہ دو اصطلاحات نے لے لی ہے۔ القاعدہ یا دہشت گردی سے نبرد آزما عالمی برادری۔ اس صورتِ حال میں القاعدہ کے فائدے اور نقصان سے قطع نظر مغرب سے لے کر مشرق تک کی حکومتوں کو یہ فائدہ ضرور پہنچ رہا ہے کہ وہ اس بہانے عام آدمی کو اپنے پنجئہ گرفت میں اور زیادہ لانے کے لئے قانون سازی میں ایک دوسرے پر سبقت لئے ہوئے ہیں۔ جب گلوبلائزیشن کے ڈنڈے پر یہ لکھ دیا جاۓ گا کہ’یا آپ ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ‘ تو پھر اس ڈنڈے سے پہلا سر آزادی، انصاف اور مساوات کے تصور کا ہی ٹوٹے گا اور وہ بھی عالمی پیمانے پر۔ |