| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ: امریکہ کی حریف یا حلیف
جس نوعیت کے دھماکے استنبول میں ہوئے ہیں ان کا فائدہ صرف ایک فریق کو پہنچ سکتا ہے جس کی خواہش یہ ہو کہ اس طرح کے دہشت گردوں کو اسلامی تہذیب کا حقیقی نمائندہ ثابت کر کے ماریطانیہ سے لے کر انڈونیشیا تک ایسا کھل کھیلا جا ئے کہ کوئی ہاتھ پکڑنے والا بھی نہ ہو۔ ایک لمحے کے لیے ذرا خود کو دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے فوجی ادارے میں بیٹھا ہوا تصور کیجئے اور یہ بھی سوچئے کے دنیا پر مکمل سیاسی اور اقتصادی تسلط ہی آپ کا خواب ہے۔ اس دوران دنیا کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی کی خبر کیا افسردگی کا باعث ہوگئی یا آپ خوشی سے اچھل پڑیں گے کہ بلی کے بھاگوں ایک اور چھینکا ٹوٹا۔ اب کوئی بھی یہ سوال نہیں کرسکے گا کہ دہشت گردی سے نبٹنے کے نام پر فوجی بجٹ میں اربوں ڈالر کے اضافے کا آخر کیا جو| ز ہے، محدود تباہی پھیلانے والے جوہری ہتھیاروں کی تحقیق کو کیوں زور شور سے آگے بڑھایا جا رہا ہے اور دنیا کے ہرشہری کی ای میل، بینک کے کھاتوں اور ٹیلی فون گفتگو سننے اور جانچنے کا اب کیا جواز ہے۔ دنیا کے ایک سو ملکوں میں فوجی سہولتوں کے ساتھ ساتھ ان ممالک میں سی آئی اے اور ایف بی آئی کو کھلی چھوٹ کیوں حاصل نہ ہو۔ اگر آپ ان میں سے کوئی بھی سوال اٹھائیں گے تو اس کا ایک ہی جواب ہوگا۔ اس دنیا کو مٹھی بھر دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ سب کرناضروری ہے اگر آپ ان اقدامات کے خلاف ہیں تو آپ دہشت گردوں کے حامی ہیں اور اگر ایسا ہے تو آپ کا مہذب دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ ٹاور کی تباہی سے لے کر استنبول کے دھماکوں تک ہونے والی ہر ایسی واردات جس میں عام شہریوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا اس نے ہر سطح پر ترقی پذیر اور مسلمان ممالک کو اسقدر نقصان پہنچایا ہے جتنا امریکہ کا پورا انٹیلیجنس نیٹ ورک اور اربوں ڈالر کا دفاعی بجٹ بھی پہچانے سے قاصر رہا۔ ورلڈ ٹریڈ ٹاور سے لے کر استنبول پچھلے تین برس میں جتنی بھی اس نوعیت کی وارداتیں ہوئی ہیں اسکے نتائج دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ القاعدہ یا اس جیسے دیگر گروہ امریکہ دشمن نہیں بلکہ سی آئی اے سے زیادہ امریکہ کے وفادار ہیں۔ امریکی انتظامیہ کو شکرگزار ہونا چاہیے کہ ایسے تمام گروہوں کہ جن کا ہر قدم دنیا کی واحد سپر پاور کی اس سیادت کو مضبوط کرتا جارہا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمہ کے نتیجے میں نیٹو، پینٹاگون اور ایم آئی سکس جیسی تنظیمیں اپنی بقا کا جواز تلاس کرنے کے لیے سخت پریشان تھیں خدا کا شکر ہے کچھ ہی عرصے بعد القاعدہ ظہور میں آ گئی اور ان تمام اداروں میں کام کرنے والے اگلے کئی برسوں تک اپنی نوکریوں کے بارے میں چین کی بنسری بجا سکتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||