BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بڑا ملک بڑے مسائل

سعودی حکام
سعودی عرب کے ہمسایہ ممالک میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں

سعودی عرب رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا خلیجی ملک ہے، تیل کے اٹھائیس فیصد عالمی ذخائر پر بیٹھا ہوا ہے اور گزشتہ پچیس برس سے اپنے بے پناہ مالی وسائل کے نتیجے میں علاقائی اور بین الاقوامی سیاست میں اہم کردار بھی ادا کر رہا ہے۔

لیکن سعودی عرب اپنے اس بڑے پن کے باوجود بدلتے وقت کی نزاکتیں غالباً اس طرح سے نہیں سمجھ پا رہا جس طرح اس کے دامن سے چمٹے ہوئے چھوٹے چھوٹے خلیجی ممالک سمجھ رہے ہیں۔

آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہاتھی نسبتاً سست رفتار ہوتا ہے اور خرگوش تیزی سے پینترے بدلتا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ خود سعودی عرب کا سیاسی، اقتصادی اور بین الاقوامی بوجھ اس کے پاؤں کی زنجیر بن گیا ہے جس سے اس کے قدم ڈگمگا رہے ہیں۔

بہرحال سعودی عرب کے تقریباً سبھی ہمسائے چاہے وہ معاشی لحاظ سے کمزور ہوں یا مستحکم اپنی آبادی اور ارد گرد کے حالات کو سمجھتے ہوئے خود میں تبدیلیاں لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

مثال کے طور پر یمن جس کی آبادی جزیرہ نما عرب میں سب سے زیادہ یعنی دو کروڑ ہے، علاقے کا سب سے پسماندہ ملک تصور کیا جاتا ہے جہاں بےروزگاری کی شرح تیس فیصد سے زائد ہے لیکن اس کے باوجود وہاں درجن بھر سیاسی جماعتیں کام کر رہیں ہیں اور براہ راست صدارتی انتخابات بھی ہوتے ہیں۔

اومان ایک قدامت پسند ملک ہے لیکن وہاں انیس سو چھیانوے سے مجلس الدولہ کام کر رہی ہے اور پہلی بار سن دو ہزار میں اس کے انتخابات کے دوران دو عورتیں بھی اس مجلس کی رکن منتخب ہوئیں۔

متحدہ عرب امارات سات چھوٹی چھوٹی ریاستوں کا وفاق ہے لیکن ریاستی حکمرانوں کی وفاقی کونسل کے ساتھ ساتھ وہاں کی فضا میں آزادی اور اقتصادی چہل پہل محسوس کی جا سکتی ہے۔

قطر میں اگرچہ ڈھائی سو برس سے التہانی خاندان کی بادشاہت ہے لیکن قطر میں بھی مرکزی میونسپل کونسل کے نام پر عام آدمی کے ووٹوں سے منتخب کونسل کام کر رہی ہے اور عورتوں اور مردوں کو آئینی طور پر مساوی حقوق دیے گئے ہیں۔

بحرین جہاں ستر فیصد آبادی شیعہ اور شاہی خاندان سمیت تیس فیصد آبادی سنی ہے، الخلیفہ خاندان نے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے خود کو ایک آئینی بادشاہت میں بدل لیا ہے۔ تیل کی آمدنی کم ہوئی تو بین الاقوامی بینکاری کے سیکٹر کو فروغ دیا گیا۔ پالیمنٹ کا آخری انتخاب ابھی گزشتہ برس اکتوبر میں ہی ہوا ہے اور ان اصلاحات کے سبب بحرین میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ٹھنڈا کرنے میں مدد ملی ہے۔

کویت پر انیس سو نوے میں عراق کے قبضے سے قبل کم و بیش مطلق العنان بادشاہت تھی لیکن وہاں نہ صرف محدود سیاسی سرگرمیوں کی اب اجازت ہے بلکہ اسی برس جولائی میں پالیمان کے دوسرے انتخابات بھی ہوئے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اصلاحات کا یہ عمل ان چھوٹی ریاستوں کی بجائے سعودی عرب سے شروع ہوتا لیکن علاقے کے اس سب سے بڑے ملک کی حالت اس وقت یہ ہے کہ وہاں اب تک میونسپل سطح کے انتخابات بھی منعقد نہیں ہو پائے۔ سیاسی سرگرمیاں خاندانِ سعود اور مملکت سے غداری کے برابر ہیں۔

اس برس جنوری میں سعودی عرب کی چونتیس مقتدر شخصیات نے ولی عہد شہزادہ عبداللہ کو آئینی اور سماجی اصلاحات کی جو یاداشت پیش کی تھی وہ ہنوز زیر غور ہے۔

اگر شاہی محل سے وقتاً فوقتاً اصلاحات کے بارے میں کچھ بیانات جاری بھی ہوتے ہیں تو وہ شاہی خاندان کی خواہش سے زیادہ امریکی دباؤ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

سعودی عرب اب سونے کی چڑیا نہیں رہا۔ اس پر پچیس بلین ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے۔ اخراجات میں دس ارب ڈالر کا خسارہ ہے اور تیس فیصد سے زائد سعودی نوجوان بےروزگار ہیں۔

ایسے میں غصہ کوئی نہ کوئی تو شکل اختیار کرتا ہی ہے چاہے وہ القاعدہ کی شکل میں ہو، مساجد کے اماموں کی شعلہ بیاں تقاریر کی صورت میں یا سیاسی یاداشتوں کی شکل میں۔

سعودی عرب انتہا پسندوں کا اس لیے بھی ہدف ہے کیونکہ اگر سعودی عرب گرتا ہے تو ارد گرد کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی حیثیت بھی بدل سکتی ہے۔

یہ وہ راز ہے جسے سعودی خاندان سے زیادہ انتہا پسند سمجھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد