| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرا پیّا گھر آیا
شاہ فیصل بن عبدالعزیز سے شہزادہ عبداللہ تک ہر سعودی حکمراں نے پاکستان کا کم ازکم ایک سرکاری دورہ ضرور کیا ہے اور ایوب خان سے پرویز مشرف تک پاکستان کے ہر فوجی و غیر فوجی رہنما نے سعودی عرب کے بیسیوں سرکاری و غیر سرکاری دورے کئے ہیں۔بلکہ زیادہ تر پاکستانی حکمرانوں نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ مقدم جانا کہ سب سے پہلے سعودی یاترا کر کے اپنے دور کو سعودی آشیرواد لے کر بابرکت بنایا جاۓ۔صرف یہی نہیں، جب جب بھی کسی پاکستانی صدر یا وزیراعظم کا اقتدار ڈانواڈول ہوا اس نے پہلی فرصت میں سعودی ثالثی کی لائف لائن استعمال کی۔ پاکستانی حکومتیں اور زرائع ابلاغ کسی اور نکتے پر اتفاق کریں نہ کریں مگر اس بات پر انکے درمیان کم و بیش اتفاقِ راۓ ہے کہ سعودی عرب ایک ایسا برادر اسلامی ملک ہے جس نے ہر آڑے وقت میں پاکستانی حکومتوں کی مدد کی ہے۔بھلے وہ لاکھوں ہنرمندوں کو ملازمت دینے کی بات ہو۔تیل کی مفت فراہمی کا معاملہ ہو ، مشترکہ صنعتی منصوبوں کا مسئلہ ہو یا نقد امداد کی فراہمی۔ موجودہ حکومت تو اس سبب بھی سعودی عرب کی شکر گزار ہے کہ اس نے ایک معزول وزیرِاعظم کو اپنا مہمان بنایا ہے تاکہ صدر مشرف بےفکری سے اپنا دھیان دیگر مسائل پر دے سکیں۔جبکہ معزول وزیرِاعظم اس لئے حکومتِ سعودی عرب کے احسان مند ہیں کہ اس نے انہیں نہ صرف جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے نکالا بلکہ رہنے کو ایک محل بھی دیا۔ دوطرفہ تعلقات کی اس نوعیت کے سبب پاکستانی زرائع ابلاغ میں شائد ہی کبھی سعودی عرب کے بین الاقوامی و علاقائی کردار اور داخلی پالیسیوں کے بارے میں کوئی ناقدانہ خبر یا تجزیہ دیکھنے کو ملے۔ مثلاً یہی بات کہ آخر اتنی قربت کے باوجود کیوں سعودی عرب کو پاکستانی برآمدات کبھی بھی پچاس کروڑ ڈالر کے ہندسے کو نہ چھوسکیں۔یا یہ سوال کہ پاکستان میں مزہبی شدت پسندی کے فروغ میں سعودیوں کی انفرادی امداد کی نوعیت یا کردار کس طرح کا رہا ہے۔ہر ایک ڈیڑھ ہفتے بعد یہ خبر کیوں آ جاتی ہے کہ سعودی عرب میں اتنے پاکستانیوں کا سر قلم ہو گیا۔ایسا کیوں ہے کہ تحویلِ ملزمین کے معاہدے کے باوجود سعودی جیلوں میں پڑے ہوۓ سینکڑوں پاکستانی وطن واپس آ کر اپنے قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا نہیں کر سکتے۔ان معاملات کو اس طرح سے کیوں سعودی حکومت کے سامنے نہیں اٹھایا جاتا جیسے عرب حکومتیں یا مغربی ممالک اٹھاتے ہیں۔لا کھوں تارکینِ وطن کے اوقاتِ کار، اجرتوں کے غیر مساوی معیار اور امتیازی شرائطِ روزگار جیسے مسائیل سرکاری ملاقاتوں میں زیرِ بحث کیوں نہیں لاۓ جاتے۔اس بات کو تجزیاتی موضوع کیوں نہیں بنایا جا سکتا کہ سعودی پاکستان تعلقات کا بنیادی محور اسلامی رشتہ ہے یا امریکہ کے علاقائی مفادات ان تعلقات پر حاوی رہے ہیں۔ اس تناظر میں کیا شہزادہ عبداللہ کے دورۂ پاکستان میں اس سوال کا جواب مل سکتا ہے کہ پاکستانی خود کو سعودیوں کا جتنا برادر سمجھتے ہیں کیا سعودی بھی پاکستانیوں کو اُتنا ہی برادر سمجھتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||