| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
آؤ آزاد تجارت کھیلیں
بہت پہلے یہ ہوتا تھا کہ جب اپنے علاقے میں خشک سالی کے سبب مویشیوں کے لۓ چارہ اور انسانوں کے لئے خوراک ختم ہو جاتی تو طاقتور قبائل کمزور قبائل کو انکی چراگاہوں سے بے دخل کر دیتے۔پھر جب بستیاں آباد ہونے لگیں تو کمزور بستیوں کے ذخائر اور فصلیں لوٹ کر کام چلایا گیا۔جب ان میں سے بعض بستیاں طاقتور شہری مملکتیں بن گئیں تو کمزور شہری ریاستوں کی زمین تاراج کر دی جاتی اور مقبوضہ علاقے کے کسانوں پر اتنا بھاری لگان نافذ کیا جاتا کہ ان کسانوں کے پاس اتنی خوراک بچتی جس سے وہ بمشکل زندہ رہ سکیں۔اس فارمولے کے تحت لاکھوں انسانوں کے ڈھانچوں پر سلطنتوں کی بنیاد رکھی گئی اور یہ سلطنتیں صدیوں برقرار رہیں۔پھر تجارتی منڈیوں کی تلاش اور توپ کی ایجاد نے کچھ ممالک کو سامراجی قوت میں بدل کر دور دراز کے بڑے بڑے خطوں پر قبضے کیلئے مجبور کیا ۔ان خطوں کو اپنے تیار شدہ مال کی منڈی میں تبدیل کرنے کیلئے ضروری تھا کہ مقامی صنعت کاری کو تباہ کیا جائے اور زراعت کو محض سامراجی طاقت کی خام مال کی ضرورت پوری کرنے تک محدود کر دیا جائے۔اس دوہری لوٹ مار نے مفتوحہ علاقوں کو کنگال کر دیا اور فاتح کا خزانہ بھر دیا۔جب مفتوحہ علاقوں میں اجتماعی بلوغت ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی کہ اس طور لوٹ مار جاری رکھنا ممکن نہ رہا تو براہ راست سامراجی قبضہ ختم ہونے لگا اور بظاہر مفتوحہ علاقے آزاد ہونے لگے۔ ان آزاد ممالک نے پھر ترقی کا خواب دیکھنا شروع کیا اور تعبیر ڈھونڈنے کے لئے پھر سابق سامراجی ممالک کی طرف دیکھنا شروع کیا کیونکہ ٹیکنالوجی اور سرمایہ انہی کے پاس جمع تھا۔چنانچہ نو آزاد ممالک کو انکے خواب کی تعبیر یہ بتائی گئی کہ بین الااقوامی بینکوں اور مالیاتی اداروں سے قرضے لینے میں ہم تمہاری مدد کریں گے تاکہ تم بھاری صنعتی، زرعی اور پانی کے منصوبے شروع کر سکو۔اور جب یہ منصوبے آمدنی دینے لگیں تو قرضے بھی واپس کر دینا۔ہم تمہیں ان منصوبوں کی تکمیل کے لۓ ٹیکنالوجی اور ماہرین بھی فراہم کریں گے اور انکی قیمت کا تعین بھی کر یں گے۔ اس پیشکش کا نتیجہ یہ نکلا کہ جتنی ترقی ہوئی اس سے زیادہ غربت بڑھ گئی۔امداد اور قرضے بدعنوان جیبوں میں چلے گئے اور اربوں ڈالر کا قرضہ موجودہ اور آئندہ نسلوں کے کھاتے میں لکھ دیا گیا۔ اس مسئلے سے نجات کیلئے اب ترقی پزیر ممالک کو یہ خواب دکھایا جا رہا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اگر آزاد عالمی تجارت کا فلسفہ تسلیم کر لیا جائے۔ جو جو ملک محصولات کم کر دے گا وہ غیر ملکی صنعتی، مالیاتی اور زرعی سرمایہ کاری کا اتنا ہی حصہ لے جائے گا۔اس سرمایہ کاری سے تمہارا بے روزگاری کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور ہم نے جتنی ترقی دو سو برس کی مشقت جھیل کر کی ہے آزاد تجارت کا منتر اس سے زیادہ ترقی تمہیں پچاس برس میں ہی کروادےگا۔
چونکہ ترقی تمہاری ضرورت ہے لہذا سرمایہ کاری مدعو کرنے کیلئے محصولات بھی تمہیں ہی کم کرنا ہوں گے۔ ہم تمہاری زرعی مصنوعات پر محصولات کم نہیں کریں گے۔ ایک تو ہمیں تمہاری زرعی اشیاء کی زیادہ ضرورت بھی نہیں اور اگر ہم نے بھی محصولات کم کئے تو ہمارا کسان ہمارا جینا دوبھر کر دے گا۔تمہیں ہماری صنعتی اشیاء کی اشد ضرورت ہے لہذا ان پر بھی ڈیوٹی کم کرو ۔ہمیں تمہاری صنعتی اشیاء درکار نہیں ہیں۔ ایک تو انکی کوالٹی اچھی نہیں اور چونکہ تم ہماری مصنوعات مہنگی ہونے کے سبب بلا اجازت انکی غیر قانونی نقالی بھی کرتے ہو لہذا اس نقصان کے ازالے کیلئے بھی ہم تمہاری صنعتی مصنوعات پر بھاری محصولات لگانے میں حق بجانب ہیں۔ اس کے بعد بھی اگر تم اپنی مصنوعات ہمیں برآمد کرنا چاہو تو تمہاری مرضی۔ یہ ٹھیک ہے کہ تم بھی عالمی تجارتی تنظیم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے رکن ہو اور ہم بھی۔ اور اس حیثیت میں ہم سب اس تنظیم کے چارٹر کے پابند ہیں۔مگر اس چارٹر کا ہر بات میں حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔اگر زیادہ قانون جھاڑو گے تو پھر قرضے، امداد اور ٹیکنا لوجی بھی عالمی تجارتی تنظیم سے ہی لینا ہمارے پاس مت آنا۔ یہ ہے آزاد عالمی تجارت کے نام پر ہونے والے نئے ڈرامے کی کچھ جھلکیاں۔ جس کا ایک ایکٹ میکسیکو کے مقام کین کن میں بھی کھیلا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||