| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
تاریخ کی گزرگاہ کا پتھر
پولیٹیکل سائنس کے ماہرین کے بقول کسی بھی ملک کی تشکیل کے لئے جو بنیادی اجزائے ترکیبی درکار ہوتے ہیں افغانستان کے پاس شاید ہی ہوں۔ یہاں نہ تو یکساں زبان و ثقافت کا حامل کوئی ایک نسلی گروہ آباد ہے، نہ کوئی سیاسی وحدت ہے اور نہ ہی کوئی مستحکم اور متفقہ حکومت۔ کوئی طاقتور فوج بھی نہیں جو ہر ایک کو گردن سے پکڑ کر وحدت کی لڑی میں پرو د۔ اگر وجود ہے تو صرف قبائل کا، جو نہ صرف ایک دوسرے سے، بلکہ موقع ملتے ہی اپنے سے بھی دست و گریباں ہو جاتے ہیں۔ اس سب کے باوجود غالباً افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جسے بطور ملک قائم رہنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ گزشتہ تین ہزار برس میں اردگرد کا کوئی ملک، سلطنت یا گروہ اسے نہ تو ضم کر سکا ہے، نہ ہضم کر سکا ہے۔ فوجیں آتی ہیں اور اس کے اوپر سے یا دائیں بائیں سے ہو کر گزر جاتی ہیں اور افغانستان تاریخ کی گزرگاہ پر اس پتھر کی طرح پڑا رہتا ہے جو نہ تو ہلتا ہے اور نہ ہی ٹوٹتا ہے۔ جس جس نے بھی کوشش کی وہ اپنا ہی سر سہلاتا اور بدن بچاتا رخصت ہوا۔
اس تناظر میں جب پہلے سوویت یونین اور اب امریکہ یہ کہتا ہے کہ ایک مستحکم اور سیاسی طور پرمتحد افغانستان کا قیام اس کا مشن ہے یا جب اقوامِ متحدہ کی طرف سے یہ خواہش ظاہر ہوتی ہے کہ کابل حکومت جنگجو افغان سرداروں کو غیر مسلح کرے تو ایسی خواہشات پر افغان تاریخ اس طرح قہقہہ زن ہوتی ہے کہ ہندوکش کے پار اس کی گونج ہر وادی میں سنی جا سکتی ہے۔ افغانستان کا جغرافیہ اس کا اتنا بڑا نگہبان ہے کہ افغانوں کو کبھی بھی یہ فکر لاحق نہیں رہی کہ کوئی ان کا ملک کھا جاۓ گا یا چھین لے گا۔یہی وہ بےفکری ہے جس سے مسلح ہو کر افغان اپنے طریقے سے جیتے آئے ہیں اور جیتے رہیں گے۔ اگر باقی دنیا واقعی افغانستان کو اپنے لئے کوئی مسئلہ سمجھتی ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ افغانستان کو تہذیبِ انسانی کے عجائب گھر میں موجود ایک نادر تاریخی وجود کے طور پر دیکھا اور محسوس کیا جائے۔ نوادرات کو پالش کرنے کی کوشش ایسی ہی ہے جیسے اہرامِ مصر کو خوشنما بنانے کے لئے اس پر سیمنٹ کا پلستر کر دیا جاۓ۔ اس کے بعد اہرامِ مصر کون دیکھنے جائے گا؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||