| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام اور انڈر ورلڈ
اگر واقعی شام کے اندر اس وقت دہشت گردی کے ایسے تربیتی کیمپ ہیں جن کے تربیت یافتہ اسرائیل میں خود کش حملے کر رہے ہیں تو پھر یہ دہشت گرد آخر شام کیسے پہنچتے ہیں اور واپس اسرائیل کیسے جاتے ہیں۔ کیونکہ شام۔اسرائیل سرحد تو صرف گولان کی پہاڑیوں پر مشتمل ہے جس کے ایک ایک انچ پر اسرائیلی بنکرز بنے ہوۓ ہیں۔لبنان۔اسرائیل شمالی سرحد پر بارودی سرنگوں اور باڑھوں کے علاوہ نگراں کیمروں اور گشتی ہیلی کاپٹروں کا مسلسل پہرہ موجود ہے۔اردن اور اسرائیل کے درمیان دریاۓ اردن بہتا ہے اور سواۓ ایلن بی پل کے اور کوئی گزرگاہ نہیں جہاں سے اسرائیل یا مغربی کنارے میں گھسا جا سکے۔بحیرہ روم کی پوری ساحلی پٹی بشمول غزہ اسرائیلی گن بوٹس اور بحری ہیلی کاپٹروں کی نگاہ میں ہے۔تو پھر بیرونِ اسرائیل تربیت پانے والے دہشت گرد زیرِ زمین سرنگوں کے زریعے اندر آ رہے ہیں یا آسمان سے کود رہے ہیں۔ اب تک جو دلائل دئیے گئے ہیں وہ بین الااقوامی قانون کے اساتزہ ، عالمی عدالتِ انصاف کے ججوں اور کمزور ممالک کے لئے بالکل نئے نہیں ہیں۔مگر گیارہ ستمبر کے بعد یہ دلیل کی دنیا کہاں رہی؟ جب واحد عالمی سپر پاور کا صدر یہ کہتا ہے کہ بدلی ہوئی دنیا میں امریکہ جہاں مناسب سمجھے گا اپنے تحفظ کے لئے پیشگی حملے کرے گا۔اقوامِ متحدہ حمائت کرے تو ٹھیک نہ کرے تو بھی ٹھیک۔ اس نئے اصول کی روشنی میں اگر اسرائیل بھی کسی ملک کے خلاف پیشگی کاروائی کرتا ہے تو کیا برا کرتا ہے۔ آج کی بین الاقوامی سیاست اور ممبئ اور کراچی کی انڈر ورلڈ یا لینڈ مافیا میں کیا فرق ہے۔ ’’دادا کو زمین چاہئے۔اگر پیسے لے کر خالی کردو تو ٹھیک ورنہ پولیس کی مدد سے خالی کرا لی جاۓ گی۔تب بھی کام نہ ہوا تو بستی کو آگ لگا دی جاۓ گی‘‘ صدام حسین اگر ہمارے لئے کام نہیں کرے گا تو بے موت مارا جائے گا۔مصر سے سبق لوجو پیسے لے کر ایک طرف ہوگیا اور اپنی زمین بھی قبضے سے چھڑوا لی۔ اردن کو دیکھو جس نے راہداری سے تابعداری تک کوئی فرمائش نہیں ٹالی اور سکھ سے رہ رہا ہے۔خلیجی ریاستوں سے سیکھو۔ کیا ہم نے ان میں سے کسی کو کبھی تنگ کیا؟ لیکن اے اہلِ دمشق ! اگر طرم خان بنو گے تو تمہارے ہاں سے نہ صرف وسیع تر تباہی کے ہتھیار بلکہ دہشت گردی کے کیمپ بھی برآمد کروادیں گے۔ اگر گولان کو واپس لینے کی ضد میں ہماری راہ کا کانٹا بنے رہوگے تو وہ ٹھکائی لگے گی کہ ہوش ٹھکانےآ جائیں گے۔ شام نے اسرائیلی حملے کے بعد یہ بیان دے کر عقلمندی کا ثبوت دیا ہے کہ وہ کوئی جوابی کاروائی نہیں کرے گا صرف احتجاج کرتا رہے گا۔ احتجاج کرتے رہو، احتجاج تمہارا بنیادی حق ہے۔کیونکہ امریکہ اور اسرائیل جمہوری ممالک ہونے کے ناطے احتجاج کے جمہوری حق کا ہمیشہ احترام کرتے رہیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||