مجھے نہیں سننا۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرا تعلق ا ُس نسل سے ہے جس کے بچپن میں بہت کم گھروں میں اخبارات آیا کرتے تھے۔محلے میں زیادہ تر غریب اور نیم متوسط نیم خواندہ لوگ رہتے تھے۔چنانچہ اخبار پڑھنے کے شوقینوں کے لئے بھائی رفیق کی دوکان المعروف سنو وائٹ ڈرائی کلینرز کی مرکزی اہمیت تھی۔بھائی رفیق کو خود تو کپڑوں کی چھٹائی، دھلائی اور استری سے فرصت نہیں تھی لیکن وہ دو تین اخبارات ضرور منگواتے تھے تاکہ اس بہانے مجمع لگا رہے اور حالاتِ حاضرہ پر تبصرے ا ُن کے کانوں میں پڑتے رہیں۔میں اور میرے دو تین دوست اسکول سے چھٹی کے بعد گھر جانے کے بجاۓ تیر کی طرح بھائی رفیق کی دوکان پر آتے اور یا تو اخبارات پڑھتے یا پھر فراغت زدہ ادھیڑ عمروں اور بوڑھوں کی ملکی، علاقائی یا بین الاقوامی امور پر نوک جھونک کا لطف اٹھاتے۔ دنیا میں کہیں کوئی بھی واقعہ ہوا ہو، کسی کی کسی سے ملاقات ہوئی ہو ا ُس کے بارے میں بھائی رفیق کی دوکان پر پڑے سیمنٹ کے دو بنچوں اور چوبی تخت پر براجمان ہر شخص اس یقین سے گفتگو کرتا جیسے وہ ان واقعات اور ملاقاتوں کا چشم دید گواہ ہو۔ ’’اوجی خانصاحب آپ کو معلوم ہے کہ کل شام چواین لائی نے یحٰیی خان کو فون پر کہہ دیا کہ جنرل صاحب فکر نہ کرو اگر اندراگاندھی نے حملہ کیا تو چوبیس گھنٹے میں چین کے پچاس ہزار فوجی دلی میں اتار دیں گے‘‘۔اگر مجلس میں سے کسی نے انکشاف کرنے والے سے کہیں یہ پوچھ لیا کہ یہ خبر کہاں چھپی ہے تو جواب ملتا ’’ اوجی آپ بھی بچوں جیسی باتیں کرتے ہیں۔یہ اندر کی خبر ہے اخبار والے ایسی خبریں چھاپنے کی جرات کیسے کر سکتے ہیں‘‘۔اسی مجلس میں کسی نے یہ بھی بتایا کہ نکسن نے کہہ دیا ہے کہ اگر ساتویں بحری بیڑے کو ہندوستان نے خلیجِ بنگال میں داخل ہونے سے روکا تو پھر امریکہ پاکستان کو ایسی ٹارچیں دے دے گا جن کی روشنی سے ہندوستانی ٹینک موم کی طرح پگھل جائیں گے۔ بھائی رفیق کی دوکان پر ہونے والے ہی ایک مباحثے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پیرس میں ویتنام اور امریکہ کے وفود میں شرط لگی کہ امریکی وزیرِخارجہ کسنجر اور ویتنامی جنرل گیاپ کے درمیان کشتی میں جو جیت جاۓ گا وہ ہار مان لے گا۔لہذا جب کسنجر کو گیاپ نے پچھاڑ دیا تو امریکہ نے ویتنام سے فوج نکالنے کا اعلان کر دیا۔ یہ بات بھی مجھے بھائی رفیق کی دوکان پر ہی معلوم ہوئی کہ کس طرح بھٹو صاحب اور ولی خان پشاور ایرپورٹ پر ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوگئے اور بھٹو صاحب نے اپنے منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا کہ میں بھی اپنے باپ کا نہیں اگر تجھے زندگی بھر کے لئے جیل میں نہ سڑا دیا۔یہ واقعہ سبب بنا نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کا اور سرحد اور بلوچستان کی حکومتوں کی برطرفی کا۔ وقت گزرتا گیا۔میں اسکول سے کالج پہنچ گیا۔بھائی رفیق کی دوکان پر مباحثے کی گرمی برقرار رہی۔پھر میں کراچی آگیا۔اس کے بعد زندگی لندن لے آئی۔ابھی دو ماہ قبل جب میں پاکستان گیا تو بھائی رفیق کے پاس بھی حاضری دی۔اب وہ زیادہ دیر تک کھڑے رھ کر استری نہیں کر سکتے۔ا ُن کے دو بیٹے ا ُن کی مدد کرتے ہیں۔سیمنٹ کے دونوں بنچ اور چوبی تخت اپنی جگہ پڑے ہوئے ہیں۔اب بھی دو تین اخبارات آتے ہیں۔مگر وہ مباحثے کرنے والے شائد زندگی نے تتر بتر کر دئیے۔پھر بھی میں نے بھائی رفیق سے پوچھ لیا ’کہاں ہیں وہ لوگ‘‘۔بھائی رفیق کا جواب تھا ’’ اب کوئی نہیں آتا۔کچھ مر گئے اور جو نہیں مرے ا ُن سب کو سمجھ آ گئی ہے کہ سب حکومتیں ایک ہی طرح کی ہوتی ہیں۔کوئی کمینی کوئی کم کمینی۔لوگ بھی اسی طرح کے ہیں۔کمینے پن پر کتنے دن بات ہو سکتی ہے‘‘۔ میں نے بھائی رفیق سے کہا ’’ میں آپ کو اخبار پڑھ کر سناؤں جیسے پینتیس برس پہلے سناتا تھا‘‘۔ کہنے لگے ’’ مجھے نہیں سننا‘‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||