BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 December, 2003, 17:19 GMT 22:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
القاعدہ کے لیے سال کیسا رہا

القاعدہ
استنبول کے حملوں کے بعد ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری

اب تو یہ ناقابل یقین لگتا ہے لیکن سن دو ہزار تین کے اوائل میں القاعدہ پسپا ہوتی نظر آ رہی تھی۔

چوبیس اپریل کو واشنگٹن کے ایک قدامت پسند روزنامے نے دہشت گردی میں مبینہ طور پر ملوث تنظیم کے بارے میں ایک تجزیاتی رپورٹ کی سرخی لگائی: ’القاعدہ کی ساکھ خطرے میں‘۔

عراق پر امریکی حملے کے بعد کم از کم کچھ عرصے کے لیے اسامہ بن لادن اور ان کا عالمی ’جہادی‘ ایجنڈا دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ پھر یہ بھی ہے کہ عراقی جنگ کے دوران القاعدہ کوئی بڑی کارروائی نہیں کر سکی، لہذا مبصرین نے کہنا شروع کر دیا کہ اس تنظیم کی طاقت زائل ہو گئی ہے۔

یکم مئی کو جب امریکی صدر بش نے عراق میں جنگی کارروائی کے خاتمے کا اعلان کیا تو جوش خطابت میں وہ یہ بھی کہہ گئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب پانسہ دہشت گردوں کے خلاف پلٹ گیا ہے۔

اور دہشت گرد تو جیسے انہیں غلط ثابت کرنے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ اسی مہینے میں سعودی دارالحکومت ریاض کے رہائشی احاطوں میں بم دھماکے ہوئے اور کاسابلانکا میں یہودیوں کی عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا۔

ان حملوں، اور اس کے بعد ہونے والی القاعدہ سے منسوب کارروائیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ تنظیم نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔

اولاً ان حملوں کا نشانہ امریکہ کی بجائے ایسے مسلم ممالک بنے جو امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔ جیسے انڈونیشیا، ترکی، پاکستان، سعودی عرب اور مراکش۔ اور یہ سب حملے ’نرم‘ اہداف پر کئے گئے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ القاعدہ، کم از کم وقتی طور پر امریکہ اور یورپ کے اندر کارروائیاں کرنے کے قابل نہیں۔

دوسرا، ان میں سے بیشتر کارروائیاں چھوٹے چھوٹے مقامی گروہوں سے کروائی گئیں۔ جیسے جکارتہ کے ایک ہوٹل میں دھماکے کی ذمے داری جماع اسلامیہ نامی تنظیم پر ڈالی گئی، اور مراکش کے حملوں میں یہ مانا جا رہا ہے کہ القاعدہ کے ارکان نے مقامی نوجوانوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔

کچھ کارروائیوں میں القاعدہ رقم اور تربیت فراہم کرتی ہے جبکہ کئی آپریشن ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں تنظیم سے صرف تحریک لی جاتی ہے اور پورا کام مقامی لوگ اپنے وسائل استعمال کر کے مکمل کرتے ہیں۔

اس نئی حکمت عملی سے القاعدہ اخباری سرخیوں میں تو جگہ پا لیتی ہے لیکن اس میں کچھ خطرے بھی ہیں۔

ہم جیتے کہ ہارے؟

 دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم جیت رہے ہیں یا ہار رہے ہیں؟ ہم جتنے دہشت گرد گرفتار یا ہلاک کر رہے ہیں، کیا پاکستان جیسے ملکوں کے مدرسے اس سے زیادہ دہشت گرد تیار کر کے ہماری طرف روانہ کر رہے ہیں؟

ڈونالڈ رمزفیلڈ

مسلم ممالک کے اندر ہونے والی کارروائی میں، تمام منصوبہ سازی کے باوجود بیگناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امکان موجود رہتا ہے۔ نومبر میں ریاض کے رہائشی احاطے میں ہونے والے حملوں میں عورتوں اور بچوں سمیت زیادہ تر مسلمان ہلاک ہوئے تھے تو عالم اسلام میں سخت غم و غصہ پایا گیا تھا۔

اسی مہینے میں استنبول میں برطانوی کونسل خانے اور ایک بینک پر حملے کیے گئے تو بھی کئی مسلمان راہگیر ہلاک ہوئے۔ مسلمانوں کے لئے ایک اور تکلیف دہ امر یہ بھی ہے کہ ایسی بہت سی ہلاکتیں ماہ رمضان میں ہوئیں۔

اگر یہ رجحان تبدیل نہ ہوا تو یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمانوں میں القاعدہ اور اسامہ بن لادن کے لیے جو ہمدردی پائی جاتی ہے وہ ختم ہو جائے، یا اس میں واضح کمی آ جائے۔

دو ہزار تین میں اس سوال پر بہت لے دے ہوئی کہ کیا القاعدہ نے جہاد کا نیا مرکز عراق میں جا کھولا ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ آس پاس کے ممالک سے امریکیوں سے لڑنے کے خواہشمند عراق میں آ رہے ہیں۔ تاہم ان کی تعداد اور استعداد کے بارے میں ماہرین متفق نہیں۔

عراق کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ ماننا ذرا مشکل لگتا ہے کہ القاعدہ نے ابھی سے ملک کے طول و عرض میں اپنا تنظیمی ڈھانچہ بنا لیا ہے۔ لیکن یہ ضرور قابل فہم ہے کہ اسلامی شدت پسند انفرادی سطح پر عراق پہنچ رہے ہیں اور اپنے بل پر یا مقامی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر عسکری کارروائیاں کر رہے ہیں۔

ماہرین نے عراق میں ہونے والے خود کش حملوں کے طریق کار میں، بالخصوص بغداد میں اقوام متحدہ کے دفتر پر اور ناصریہ میں اطالوی فوجیوں کے خلاف ہونے والی کارروائی میں، القاعدہ سے مماثلت تلاش کی ہے۔ لیکن پھر بھی عراق میں القاعدہ کی موجودگی اور اس کی قوت کا صحیح اندازہ لگانا اس وقت ممکن نہیں۔

دہشتگردی مخالف جنگ

 گیارہ ستمبر کے بعد سے ایک سو سے زیادہ ممالک میں کارروائی کے دوران تین ہزار کے قریب القاعدہ ارکان کو ہلاک یا گرفتار کیا گیا ہے

دوسری طرف مغرب میں بھی ابتدائی نعرے بازی کے بعد اب حقیقت پسندی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سولہ اکتوبر کو اپنے معاونین کو لکھے گئے ایک خط میں امریکی وزیر دفاع ڈونالڈ رمزفیلڈ نے سوال کیا: ’دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم جیت رہے ہیں یا ہار رہے ہیں؟ ہم جتنے دہشت گرد گرفتار یا ہلاک کر رہے ہیں، کیا پاکستان جیسے ملکوں کے مدرسے اس سے زیادہ دہشت گرد تیار کر کے ہماری طرف روانہ کر رہے ہیں؟‘

امریکہ اور اس کے حلیفوں کو ابھی تک کچھ کامیابیاں تو ملی ہیں۔ گیارہ ستمبر کے بعد سے ایک سو سے زیادہ ممالک میں کارروائی کے دوران تین ہزار کے قریب القاعدہ ارکان کو ہلاک یا گرفتار کیا گیا ہے، کئی جگہوں پر تنظیم کا سرمایہ منجمد کیا گیا، اور القاعدہ کے لئے رقم کی ترسیل کا کام کرنے والی کئی کمپنیوں کو بند کیا گیا۔

لیکن اب بھی دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ القاعدہ پہلے کے مقابلے میں کمزور تو ضرور ہوئی ہے لیکن سن دو ہزار چار میں اس کی طرف سے خطرے میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد