سعودی سفیر لیبیا سے واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب نے لیبیا سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے اور لیبیا کو کہا کہ وہ بھی اپنے سفیر کو واپس بلا لے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ لیبیا کو کہا جائے گا کہ وہ سعودی عرب میں اپنے سفیر کو واپس بلا لے۔ سعودی عرب نے لیبیا کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو ان اطلاعات کے بعد ختم کیا جن میں ایک امریکی مسلمان عبدالرحمن المودی نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ سعودی عرب کے اصل حکمران شہزادہ عبداللہ کو قتل کروانے کی لیبیائی سازش میں شریک تھا۔ عبدالرحمن المودی امریکن مسلم کونسل اور امریکن مسلم فاونڈیشن کے بانی ہیں۔المودی کو اگست 2003 میں لندن کے ہیتھرو ایرپورٹ پر تین لاکھ چالیس ہزار ڈالر سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ عبدالرحمن المودی نے عدالت میں اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہزادہ عبداللہ کو قتل کرانے کی لیبیائی سازش میں شریک تھا اور اس نے اس کام کے لیے انہوں نے لیبیا کی حکومت سے لاکھوں ڈالر وصول کیے تھے۔ اطلاعات کے مطابق عرب لیگ کے 2003 کے اجلاس میں سعودی شہزادہ عبداللہ اور لیبیا کے رہمناء میں اس وقت جھڑپ ہوئی تھی جب معمر قدافی نے سعودی عرب میں امریکی فوجوں کی تعنیاتی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||