’ملزم کے القاعدہ سے قریبی روابط‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے امریکہ جانے والے طیاروں کو تباہ کرنے کے مبینہ منصوبے کو ناکام بنانے میں پاکستان میں ایک ملزم راشد رؤف کی گرفتاری اہم تھی۔ سکیورٹی کے ایک سینئیر اہلکار نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ راشد رؤف کی گرفتاری اس آپریشن کا اہم ترین حصہ تھا کیونکہ ان کو حراست میں لیئے بغیر اس آپریشن کو نا کام بنانا ممکن نہیں تھا۔ اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کے مطابق اس سکیورٹی اہلکار نے اس بات کا اعتراف کیا کہ برطانوی حکام راشد رؤف کو گرفتار کرنے سے پہلے مزید شواہد جمع کرنا چاہتے تھے لیکن پاکستانی اور امریکی انٹیلیجنس والوں کا کہنا تھا کہ ان کی جلد گرفتاری اس لیئے اہم ہے کہ وہ ایک خطرناک شخص ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ راشد رؤف شائد اس سازش کے سرغنہ تو نہیں تھے لیکن وہ برطانیہ میں القاعدہ کے ساتھ کام کرنے والے افراد کے ساتھ اہم رابطہ کار تھے۔ملزم کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ سنہ 2002 میں برطانیہ سے پاکستان آئے تھے اور ان کے القاعدہ تنظیم کے ساتھ قریبی روابط بن گئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس منصوبے کی تفتیش کے سلسلے میں مزید چھ افراد کو پاکستان میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم انہوں نے ابھی ان کی شناخت کرنے سے انکار کر دیا۔ سکیورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرگرم انتہا پسندوں کی مالی امداد کرنے والوں کا سراغ لگانے کی کوششیں ہو رہی ہیں تاہم یہ رپورٹیں بے بنیاد ہیں کہ زلزلے کے لیئے دی گئی امداد میں سے کچھ حصہ ان لوگوں کے پاس گیا تھا۔ |
اسی بارے میں ’پاکستان میں گرفتاریاں اہم تھیں‘10 August, 2006 | آس پاس پاکستان سے بھی گرفتاریاں: حکام10 August, 2006 | آس پاس پاکستان میں گرفتار کا نام راشد رؤف11 August, 2006 | پاکستان لندن سازش کیسے پکڑی گئی؟12 August, 2006 | پاکستان پاکستانی پریس: مبینہ دہشتگردی منصوبہ 11 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||