پاکستانی پریس: مبینہ دہشتگردی منصوبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن سے امریکہ جانے والے کم از کم دس طیاروں کو فضا میں تباہ کرنے کے مبینہ دہشت گردی کے منصوبے کو برطانوی پولیس کی جانب سے ناکام بنانے کے متعلق خبروں کو پاکستانی میڈیا نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ لیکن پاکستانی حکام خاصے محتاط ہیں اور بات کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ بیشتر اخبارات نے جمعہ کے روز اپنی اشاعت میں اس خبر کو شہ سرخیوں میں شائع کیا ہے اور الیکٹرانک میڈیا نے بھی اس کی بھرپور کوریج کی ہے۔ وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور وزیر اطلاعات محمد علی درانی اس بات سے لاعلمی ظاہر کرتے رہے کہ پاکستان نے برطانیہ اور امریکہ کو فضا میں طیارے تباہ کرنے کے منصوبے کے بارے میں کوئی معلومات دی ہے۔ لیکن دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اس بارے میں رات گئے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان نے نہ صرف برطانیہ بلکہ امریکہ کو بھی اس مجوزہ تباہ کن منصوبے کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات فراہم کی تھیں۔ روزنامہ ڈان نے برطانوی سیکورٹی فورسز کی جانب سے منصوبے کو ناکام بنانے کی خبر کے ساتھ ساتھ امریکہ، فرانس، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے ہوائی اڈوں پر سیکورٹی سخت کرنے کی تفصیلی خبر شائع کی ہے۔ اس انگریزی روزنامے نے سرکاری ذرائع سے ایک اور خبر میں کہا ہے کہ پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے بھی کئی گرفتاریاں کی ہیں جس میں برطانوی مسلمان شہری بھی شامل ہیں۔ اخبار ’دی نیوز‘ نے بھی اپنی شہ سرخی دہشت گردہ کے مبینہ منصوبے کی ناکامی کی خبر شائع کی ہے اور پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا موقف شائع کیا ہے۔ روزنامہ دی نیشن نے پانچ کالم کی اپنی شہ سرخی میں ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ کراچی سے منگل کی صبح گرفتار ہونے والے تین افراد سے ملنے والی معلومات کے بنا پر برطانوی حکومت نے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنایا ہے۔ اخبار نے ایک رنگین نقشہ بھی شائع کیا ہے جس میں برطانیہ سے امریکہ کے مختلف شہروں کو جانے والی پروازوں کی منزل والے شہروں کے نام بھی دیے ہیں۔ روزنامہ ڈیلی ٹائمز نے ’یو کے کے ہوائی اڈوں پر ریڈ الرٹ‘ کی سرخی کے علاوہ صدر بش اور پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان کا بیان بھی شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیے ہیں۔ اردو روزناہہ جنگ، خبریں، ایکسپریس، نوائے وقت اور دیگر اخبارات نے منصوبے کی ناکامی کی خبریں شہہ سرخیوں میں شائع کی ہیں۔ | اسی بارے میں القاعدہ کی کارروائی ہے: امریکی ماہرین 11 August, 2006 | آس پاس ’پاکستان میں گرفتاریاں اہم تھیں‘10 August, 2006 | آس پاس کیا کیا ہوا اور کیا کیا کیا گیا؟10 August, 2006 | آس پاس پاکستان سے بھی گرفتاریاں: حکام10 August, 2006 | آس پاس ’طیاروں کی تباہی کا منصوبہ ناکام‘ 10 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||