BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 September, 2006, 19:17 GMT 00:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طالبان القاعدہ سے زیادہ خطرناک‘
مشرف
مشرف نے برسلس میں یورپی پارلیامان کے اراکین کو خطاب کیا
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن اور سالمیت کے لیئے فی الوقت طالبان القاعدہ سے زیادہ خطرناک ہے۔

برسلس میں یورپی پارلیمان کے اراکین کو خطاب کرتے ہوئے مشرف نے کہا کہ القاعدہ کے برعکس طالبان کو زیادہ عوامی حمایت حاصل ہے جو قومی سطح پر ٹکراؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

اس تنقید کے جواب میں جس میں پرویز مشرف پر یہ الزام لگایا گیاہے کہ وہ سرحد پر انتہا پسندی کو قابو کرنے کے مناسب اقدام کرنےمیں ناکام رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے سرحد پر پچاس ہزار فوجی تعینات کر رکھا ہے اور اب تک چار سو فوجی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

پرویز مشرف نے مغرب پردہشت گردی کو بڑھاوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس نےاس نے سابق سویت یونین کے خلاف جنگ کرنے کے لیئے ہزاروں مجاہدین کا استعمال کیا اور اب ایک دہائی کے بعد پاکستان کو اس کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان انتہا پسندوں کےساتھ نرم روی رکھنے والا ملک نہیں ہے جیسا کہ اکثر مغربی ممالک الزام لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انتہا پسندی کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جو شکل آج ہمارے اردگرد ہے وہ گزشتہ 26 برسوں سےاس خطے میں جاری انتہا پسندی کا نتیجہ ہے۔

مشرف نے کہا کہ’ سن 1979 میں پاکستان اور امریکہ نے افغانستان میں سویت یونین کے قبضے کے خلاف جنگ شروع کی۔امریکہ اور پاکستان سمیت مغربی ممالک نے دنیا بھر کے مجاہدین کو اکٹھا کر جہاد کی شروعات کی۔ ہم لوگوں نے ہی طالبان کو ہتھیار دیا اور انہیں وہاں بھیجا۔اس کام میں امریکہ اور پاکستان سمیت مغربی ممالک شامل تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ سبھی نے 1989 میں تیس ہزار مجاہدین کو یہاں چھوڑ دیا۔ مشف نے مزید کہا کہ پاکستان کو اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ’ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مغرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

مشرف نے کہا کہ طالبان کوافغانستان کے عوام میں کافی حمایت حاصل ہے جس کی قیادت ملا عمر کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملا عمر نے کبھی پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ مشرف نے زور دے کر کہا کہ طالبان کو ختم کرنے کا واحد راستہ طاقت کا استعمال ہی ہے۔

مشرف کا یہ یورپی یونین کے صدر دفتر کایہ پہلا دورہ تھا ۔ مشرف نےاس موقع پر کشمیر تنازع کے پر امن حل کی امید بھی ظاہر کی۔

اسی بارے میں
بحران ٹلا ہے ختم نہیں ہوا
03 August, 2006 | پاکستان
طالبان کے خلاف جنگ ایجنڈے پر
06 September, 2006 | پاکستان
الزام لگانا بند کر دیں: مشرف
07 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد