BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 November, 2004, 17:39 GMT 22:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئی ایس آئی، براہ راست بھرتیاں

 قومی اسمبلی
حکومت نے جمعہ کی شام سینٹ سے خفیہ ایجنسی ’انٹر سروسز انٹیلیجنس، یعنی آئی ایس آئی میں گریڈ سولہ اور اس سے اوپر کے عہدوں پر براہ راست بھرتی کا اختیار ایجنسی کے سربراہ کو دینے کے بارے میں بل منظور کرلیا۔ یہ بل قومی اسمبلی پہلے ہی منظور کرچکی ہے۔

یہ بل حزب اختلاف کے واک آوٹ کے دوران منظور کیا گیا۔

فیڈرل پبلک سروسز کمیشن آرڈیننس 1976 میں ترمیم کرنے کا بل پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے پیش کیا۔

ملک کے تمام محکموں اور اداروں کے گریڈ سولہ اور اس سے اوپر کے عہدوں پر بھرتیاں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کرتا ہے۔ لیکن اس بل کی منظوری کے بعد اب ’آئی ایس آئی، ملک کا واحد ادارہ بن گیا ہے جس کے سربراہ کو براہ راست گزیٹڈ افسران بھرتی کرنے کا اختیار ہوگا۔

اس بل کا مقصد حکومت نے یہ بتایا کہ کمیشن کا طریقہ کار طویل ہے اور ملازمین کے بارے میں معلومات خفیہ نہیں رہتی۔

جمعہ کو وقفہ سوالات کے بعد جیسے ہی اجلاس شروع دوبارہ ہوا حزب مخالف نے کورم کی نشاندہی کردی۔ اس دوران ایوان میں حکومتی بینچوں پر دس سے بھی کم سینیٹر موجود تھے۔ حکومت نے کورم پورا نہ ہونے کے باوجود بھی اجلاس ملتوی ہونے نہیں دیا جس پر حزب مخالف نے سخت احتجاج کرتے ہوئے واک آوٹ کیا۔

حزب مخالف کی غیر موجودگی میں کچھ ہی دیر بعد مطلوبہ تعداد میں حکومتی سینیٹرز ایوان میں لابیوں اور وزراء کے چیمبرز سے دوڑتے ہوئے پہنچے اور کورم پورا کرلیا۔

کورم پورا ہونے کے بعد حکومت نے یکطرفہ کارروائی کے دوران چند منٹوں میں دو بل منظور کرالیے۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے بل کے علاوہ دوسرا بل جو منظور کرایا گیا وہ حادثات کی صورت میں زخمیوں کو طبی امداد دینے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے متعلق تھا۔

دونوں بل منظور کرانے کے بعد سینیٹ کا اجلاس اب پیر کی شام تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

ادھر حزب مخالف کے رہنماؤں، اسفند یار ولی، رضا ربانی، پروفیسر خورشید اور دیگر نے کورم پورا نہ ہونے کے باوجود بل منظور کرانے کا حکومت پر الزام لگاتے ہوئے تمام کارروائی کو غیرقانونی قرار دیا اور کہا کہ وہ اس بل کو تسلیم نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک جانب وزیراعظم حزب مخالف سے مفاہمت کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب حزب مخالف کو بلڈوز کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد