’وزیرستان معاہدہ ملا عمر نے کرایا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے اخبار ڈیلی ٹیلیگراف میں چھپنے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملا محمد عمر نے شمالی وزیرستان میں مقامی جنگجوؤں اور حکومت کے مابین طے پانےوالے امن معاہدہ کرانےمیں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا کہ طالبان کے لیڈر ملا عمر نے شمالی وزیرستان میں ہونے والے امن معاہدے میں کسی قسم کا کردار ادا کیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پانچ ستمبر کو طے پانے والے اس معاہدے کی طالبان رہنما ملا محمد عمر نے خود ذاتی طورپر حمایت کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک اور اہم طالبان رہنما ملا داد اللہ کو حضوصی طورپر وزیرستان بھیجا تھا اور ان کے ذریعے سے مقامی جنگجوؤں کو یہ پیغام پہنچایا کہ وہ فوج کے ساتھ وزیرستان میں جنگ کی بجائے امن مذاکرات میں شامل ہوں۔ ادھر ایک ہفتہ قبل ملا داد اللہ نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رحم اللہ یوسف زئی سے کسی نامعلوم مقام سے گفتگو میں بتایا تھا کہ انہوں نے چند ماہ قبل شمالی اور جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا اور وہاں پر موجود مقامی طالبان سے ملاقاتوں میں ان پر زور دیا کہ وہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کے خلاف نہ لڑیں۔ ایک پاؤں سے معزور ملا داداللہ کا کہنا تھا کہ وزیرستان میں فوج کے خلاف جاری جنگ امریکہ کے مفادات میں ہیں لہذا ہمیں پاکستانی فوج کے خلاف محاذ بند کردینی چاہیے بلکہ ہمیں امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کے خلاف لڑنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی جنگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ہے نہ کہ پاکستانی فوج کے خلاف ۔ ملا داداللہ کا کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ صدر مشرف امریکہ کا ساتھ دے رہا ہیں اور امریکہ ہی کے کہنے پر طالبان کے خلاف وزیرستان میں برسر بیکار ہیں اور اب کھلے عام افغان صدر حامد کرزئی کو بھی طالبان اور طالبانئزیشن کے خلاف مشترکہ جنگ لڑنے کی دعوت دے رہے ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی طالبان حکومتی فورسز کے خلاف لڑنے میں حق بجانے ہوں گے اگر پرویز مشرف نے معاہدہ تھوڑنے کی کوشش کی اور اپنے اس وعدے سے پھیر گیا کہ وزیرستان کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے سے حل کرایا جائے۔ ملا داد اللہ کا کہنا تھا کہ امن معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی سے علاقے پر برے اثرات مرتب ہونگے اور اس سے حالات مزید بگڑیں گے۔ واضع رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد شمالی وزیرستان میں پہلی مرتبہ طالبان اورحکومت کے مابین امن معاہدہ طے پایا ہے جسے ملکی اور بین الااقوامی میڈیا میں بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔ | اسی بارے میں میران شاہ میں دو افراد کے سر قلم30 August, 2006 | پاکستان ’ دو امریکی جاسوس قتل‘19 April, 2006 | پاکستان باجوڑ میں سر کٹی لاش برآمد11 May, 2006 | پاکستان وزیرستان: گرینڈ جرگے پر پابندی27 July, 2006 | پاکستان قبائلی سردار، طالبان کی تفتیش21 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||