افغانستان: فوجی سمیت 18 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس کے مطابق جنوبی افغانستان میں گورنر کے دفتر اور ایک مسجد کے باہر دھماکے میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ سرکاری اہلکاروں کے مطابق یہ دھماکہ صوبہ ہلمند کے قصبے لشکرگاہ میں اس وقت ہوا جب ایک خود کش بمبار کو ایک چوکی پر روکا گیا جس پر اس نے اپنے جسم کے ساتھ لگے بم سے دھماکہ کر دیا۔ ادھردارالحکومت کابل میں بھی ایک دھماکہ ہوا ہے جس میں نیٹو فوج کی گاڑیوں کے ایک قافلے کو بم کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ بم ایک پل کے نیچے نصب تھا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں نیٹو کا ایک فوجی اور ایک افغان بچہ ہلاک ہوگئے ہیں۔ فوجی کے بارے میں خیال ہے کہ اس کا تعلق اٹلی سے تھا۔ نیٹو کے ترجمان کے مطابق اس دھماکے میں پانچ نیٹو فوجی اور پانچ افغان شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔پولیس کے مقامی سربراہ محمد داؤد ندیم نے بتایا ہے کہ زخمی ہونے والے شہری ایک گاڑی میں سوار تھے جو فوجی قافلے کے پیچھے آ رہی تھی۔ لشکرگاہ میں ہونے والا دھماکہ ہلمند صوبے کے گورنر محمد داؤد صافی کے دفتر کے اردگرد حفاظتی حصار کی پہلی چوکی پر ہوا۔ پولیس کے مطابق گورنر اس وقت دفتر میں موجود تھے تاہم وہ دھماکے میں محفوظ رہے۔ پولیس کے جنرل محمد نبی ملاخیل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ ’ ایک شخص جس نے اپنے جسم کے گرد دھماکہ خیز مواد باندھا ہوا تھا جب اس کو چوکی پر روکا گیا تو اس نے جسم پر بندھے بم کو پھاڑ دیا۔‘ جنرل محمد نبی ملاخیل نے مزید بتایا کے مرنے والوں میں پولیس کے تین افسران بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے دیگر افراد میں بارہ عام شہری جبکہ افغان فوج کے تین اہلکار شامل ہیں۔ اس دھماکے میں کم از کم سترہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق دھماکے کا شکار ہونے والے زیادہ تر افراد گورنر کے دفتر حج پر جانے کے لیئے اجازت نامے لینے آئے ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ منگل کو ہونے والے دو دھماکے اس وقت ہوئے ہیں جب امریکی صدر جارج بُش اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان واشنگٹن میں ملاقات بھی ہو رہی ہے۔ بدھ کے روز دونوں صدور اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف وائٹ ہاؤس میں ایک عشائیہ میں سہ فریقی بات چیت بھی کریں گے۔ یاد رہے کہ اس ماہ کے اوائل میں ایک خود کش کار دھماکے میں سولہ افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ گزشتہ ایک ماہ سے جنوبی افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں میں کئی نیٹو فوجی مارے جا چکے ہیں جن میں اکثریت برطانوی یا کینیڈین فوجیوں کی تھی۔ | اسی بارے میں افغانستان: 40 مشتبہ طالبان ہلاک24 September, 2006 | آس پاس افغانستان: خودکش حملے، 18 ہلاک18 September, 2006 | آس پاس افغانستان:’ناکام ہوجانے کا خدشہ‘13 September, 2006 | آس پاس افغانستان: فوجی کون بھیجے گا؟13 September, 2006 | آس پاس ’جنوبی افغانستان میں کمک بھیجیں‘07 September, 2006 | آس پاس افغانستان میں 14 برطانوی ہلاک02 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||