افغانستان: 40 مشتبہ طالبان ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں نیٹو اور مشتبہ طالبان کے درمیان تازہ جھڑپ میں درجنوں طالبان ہلاک ہوگئے ہیں۔ ملک کے اس حصے میں افغان اور نیٹو فوج مشترکہ طور پر گزشتہ کئی ہفتوں سے طالبان کے خلاف بڑا آپریشن کررہی ہیں۔ افغان وزارت دفاع نے سنیچر کو ہلاک ہونے والے مشتبہ طالبان کی تعداد 40 بتائی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں ’دشمن‘ کا ایک اڈہ تباہ کردیا گیا ہے۔ دریں اثناء صوبے کے دیگر حصوں سے نیٹو فوج نے 21 مشتبہ طالبان کو گرفتار کرنے کا دعوٰی بھی کیا ہے۔ تازہ جھڑپ صوبے کے گرشک ضلعے میں ہوئی ہے اور میں بیس ہزار نیٹو فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ آپریشن کے دوران فضائی اور زمینی فوج استعمال کی گئی ہے۔ نیٹو فوج کا کہنا ہے کہ صوبے کے دیگر حصوں میں جھڑپوں میں 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ طالبان کے ترجمان نے فوری طور پر ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے تاہم ہر روز ہونے والی بھاری ہلاکتوں کی تردید کرتے رہے ہیں۔ فریقین کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق عموماً ناممکن ہوتی ہے۔ 2001 میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے افغانستان میں یہ بدترین تشدد ہے۔ افغانستان میں برطانوی فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ طالبان ان کے لیئے ان کی توقعات سے زیادہ مشکل ’ٹارگٹ‘ ثابت ہورہے ہیں۔ اس سال افغانستان میں مختلف جھڑپوں میں 130 غیر ملکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں افغانستان خودکش حملہ: 12 ہلاک28 September, 2005 | صفحۂ اول ’دہشت گردی، منبع پر دھیان دیں‘13 September, 2005 | صفحۂ اول افغان بارودی سرنگوں کی زد میں04 April, 2006 | صفحۂ اول وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | صفحۂ اول وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||