افغانستان: خودکش حملے، 18 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کے روز افغانستان میں ہونے والے تین خود کش حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد اٹھارہ افراد بتائی گئی ہے۔ پہلے خودکش بمبار نے صوبہ قندھار میں تعینات نیٹو کے فوجیوں کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں کینیڈا سے تعلق رکھنے والے چار فوجی ہلاک ہوگئے۔ یہ خود کش حملہ اس وقت کیا گیا جب یہ فوجی بچوں کو تحفے دے رہے تھے۔ اس حملے میں کم سے کم پچیس شہری زخمی ہوگئے۔ اتوار کو نیٹو نے کہا تھا کہ اس کے فوجیوں نے قندھار کے پنجوائی علاقے سے طالبان کو نکال دیا ہے۔ پیر کے روز ہی دارالحکومت کابل میں ایک دوسرا خود کش حملہ ہوا جو کہ کار کے ذریعے کیا گیا۔ اس حملے میں پولیس کے تین اہلکار ہلاک ہوگئے۔ کابل کے شمال میں ہونے والے اس حملے میں پولیس کا ایک اہلکار زخمی بھی ہوا۔ پیر کے روز ہی مغربی شہر ہیرات میں تیسرا خودکش حملہ ہوا جس میں ہیرات کے گورنر کے مطابق گیارہ افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوئے۔ گورنر کے مطابق یہ حملہ ایک مسجد کے باہر ہوا اور اس کے نشانے پر مقامی پولیس کے نائب سربراہ تھے جو زخمی ہوگئے۔ حالیہ مہینوں میں افغانستان میں طالبان کی مزاحمت زور پکڑتی رہی ہے اور تشدد کے واقعات میں سینکڑوں طالبان اور شہری مارے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں جنازے پر بھی خودکش حملہ12 September, 2006 | آس پاس نیٹو کمک کی کوئی پیشکش نہیں14 September, 2006 | آس پاس افغانستان: فوجی کون بھیجے گا؟13 September, 2006 | آس پاس افغانستان:’ناکام ہوجانے کا خدشہ‘13 September, 2006 | آس پاس افغانستان: پولینڈ فوجی بھیجنے پر تیار14 September, 2006 | آس پاس افغان ضلع پر طالبان کا ’قبضہ‘ 15 September, 2006 | آس پاس افعانستان میں بڑے آپریشن کا آغاز16 September, 2006 | آس پاس قندھار دھماکہ، کئی فوجی ’زخمی‘18 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||