BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 September, 2006, 12:31 GMT 17:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان: فوجی کون بھیجے گا؟
نیٹو کے رکن ممالک مزید فوج فراہم کرنے پر راضی نہیں ہیں
نیٹو کے رکن ممالک افغانستان میں تعینات بین الاقوامی فوج کی ایک درخواست پر غور کرنے کے لیئے بیلجئم میں ملاقات کر رہے ہیں۔

انٹرنشینل سکیورٹی اسسٹنس فورس ( آئی ایس اے ایف) نے افغانستان کے لیئے مزید پچیس سو فوجی بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ بین الاقوامی امن فوج اس وقت افغانستان کے جنوبی علاقے میں طالبان مزاحمت کاروں سے جنگ میں مصروف ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ اسے مزید وسائل کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس نے خبردار کیا تھا کہ اگر نیٹو ممالک نے مزید فوج نہ بھیج کرافغان حکومت کی مدد نہ کی تو خدشہ ہے کہ بطور ایک ریاست افغانستان ناکام ہو جائے گا۔

نیٹو رکن ممالک کے درمیان فوجیوں کے تعیناتی سے متعلق اختلافات مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اس وقت افغانستان میں اٹھارہ ہزار پانچ سو کے قریب غیر ملکی فوجی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کے اتحادی فوج بھی تقریبًااتنی ہی تعداد میں ہیں۔

نیٹو فوجیوں کی نصف تعداد ملک کے جنوبی حصے میں کینیڈا اور برطانیہ کے فوجیوں کی مدد کے لیئے وہاں موجود ہے جن کے پاس اس وقت امریکی جنگی طیارے اور سپیشل فورسز بھی ہیں۔

گزشتہ دنوں کے پرتشدد واقعات کے سلسلے میں افغان پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہلمند میں ایک لڑائی کے دوران سولہ طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے کہنا ہے کہ ڈنمارک، آسٹریلیوی اور ایسٹونیا کے فوجی بھی جنوبی حصے میں ہیں لیکن نیٹو کے دیگر رکن ممالک جنوبی حصے میں فوجیں بھیجنے سے کترا رہے ہیں جہاں اس وقت جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔

جرمنی کے بھی ہزاروں فوجی شمالی حصے میں ہیں مگر ان کے اصول ایسے ہیں کہ اس کے فوجی جنوبی حصے میں نہیں جا سکتے۔ نیٹو ممالک اس بات پر رضا مند ہیں کہ افغانستان میں مزید فوجی بھیجے جائیں مگر کون سا ملک فوجی بھیجے گا اس بارے میں طے کیا جانا ابھی باقی ہے۔

برسلز کے قریب ہونے والے اس اجلاس میں نیٹو کے تمام رکن ممالک شرکت کر رہے ہیں۔ تاہم اس بات کا خدشہ بھی موجود ہے کہ درخواست کے مطابق شاید مقررہ فوجی افغانستان نہ بھیجے جائیں۔

گزشتہ ہفتے امریکی اتحادی فوج نے علاقے کا نظم و نسق نیٹو کے حوالے کیا تھا۔ ملک میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور جنوبی حصہ ان کا خاص مرکز ہے۔

کینیڈا میں بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس نے کہا تھا کہ امریکہ نے 1998 میں روس کے افغانستان سے جانے کے بعد اسے تنہا چھوڑ دیا
تھا اور ’ہم سب کو اس فیصلے کی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ کیونکہ اگر آپ ایسی اہم جگہ کو تنہا چھوڑتے ہیں تو پھر آپ کو بھگتنا بھی پڑتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ جغرافیائی طور پر افغانستان ایک ایسی جگہ واقع ہے جو دہشت گرد تنظیوں کے لیئے بہترین پناہ گا بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کی مزاحمت صورتِ حال کو مشکل بنا رہی ہے لیکن انہوں نے کینیڈا سے اپیل کی کہ وہ افغانستان میں نیٹو کی فوجی کارروائیوں کی مدد کرتا رہے۔

منگل کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ دنیا کو القاعدہ تنظیم سے اتنا خطرہ نہیں جتنا طالبان سے ہے۔

اسی بارے میں
امریکی فوجیوں سمیت16 ہلاک
08 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد