قندھار دھماکہ، کئی فوجی ’زخمی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں اتحادی افواج کا کہنا ہے ملک کے جنوب میں ہونے والے بم دھماکے میں نیٹو کے کئی ’زخمی‘ زخمی ہوئے ہیں۔ بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ یہ دھماکہ ایک خودکش بمبار نے کیا لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ اتحادی فوج کے مطابق قندھار صوبے کے ضلع پنجوائی میں ہونے والے دھماکے میں کئی شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین اور مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے نیٹو کے فوجی بچوں کو تحفے دے رہے تھے جب یہ بم دھماکہ ہوا۔ نیٹو کی افواج کے ایک ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ زخمی ہونے والے فوجیوں کا تعلق کن ممالک سے تھا۔ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے نو بجے ہوا۔ نیٹو کے مطابق زخمی ہونے والے فوجیوں کو طبی امداد کے لیے پہنچادیا گیا ہے۔ اتوار کو نیٹو نے کہا تھا کہ دو ہفتے کے فوجی ’آپریشن میدوسا‘ کے بعد طالبان کو ضلع پنجوائی سے بھگادیا گیا ہے۔ نیٹو نے کہا کہ آپریشن میدوسا کے دوران کم سے کم 400 طالبان ہلاک ہوئے۔ جنوبی افغانستان میں نیٹو افواج کی گزشتہ جولائی سے تعیناتی کے بعد یہ سب سے بڑا فوجی آپریشن تھا۔ ہلاکتوں کی اس تعداد کی تصدیق غیرجانبدار ذرائع سے نہیں ہوسکی ہے۔ اس سال افغانستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات میں سینکڑوں افراد مارے گئے ہیں۔ ان میں سے کافی لوگ خودکش حملوں میں مارے گئے۔ |
اسی بارے میں افغانستان: فوجی کون بھیجے گا؟13 September, 2006 | آس پاس ’مشرف کے بیان پر افسوس ہے‘14 September, 2006 | آس پاس افغانستان: پولینڈ فوجی بھیجنے پر تیار14 September, 2006 | آس پاس افغان ضلع پر طالبان کا ’قبضہ‘ 15 September, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||