BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 September, 2006, 10:09 GMT 15:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قندھار دھماکہ، کئی فوجی ’زخمی‘
افغانستان میں اس سال تشدد میں اضافہ ہوا ہے
افغانستان میں اتحادی افواج کا کہنا ہے ملک کے جنوب میں ہونے والے بم دھماکے میں نیٹو کے کئی ’زخمی‘ زخمی ہوئے ہیں۔

بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ یہ دھماکہ ایک خودکش بمبار نے کیا لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اتحادی فوج کے مطابق قندھار صوبے کے ضلع پنجوائی میں ہونے والے دھماکے میں کئی شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین اور مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے نیٹو کے فوجی بچوں کو تحفے دے رہے تھے جب یہ بم دھماکہ ہوا۔

نیٹو کی افواج کے ایک ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ زخمی ہونے والے فوجیوں کا تعلق کن ممالک سے تھا۔ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے نو بجے ہوا۔ نیٹو کے مطابق زخمی ہونے والے فوجیوں کو طبی امداد کے لیے پہنچادیا گیا ہے۔

اتوار کو نیٹو نے کہا تھا کہ دو ہفتے کے فوجی ’آپریشن میدوسا‘ کے بعد طالبان کو ضلع پنجوائی سے بھگادیا گیا ہے۔

نیٹو نے کہا کہ آپریشن میدوسا کے دوران کم سے کم 400 طالبان ہلاک ہوئے۔ جنوبی افغانستان میں نیٹو افواج کی گزشتہ جولائی سے تعیناتی کے بعد یہ سب سے بڑا فوجی آپریشن تھا۔

ہلاکتوں کی اس تعداد کی تصدیق غیرجانبدار ذرائع سے نہیں ہوسکی ہے۔

اس سال افغانستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات میں سینکڑوں افراد مارے گئے ہیں۔ ان میں سے کافی لوگ خودکش حملوں میں مارے گئے۔

طالبان کا ہیڈکوارٹر
طالبان کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ: برطانوی آفیسر
مشتبہ طالبانافغانستان میں تشدد
بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار آخر کون ہے؟
 ہلمندافغانستان میں نیٹو
جوانوں اور رسد کی کمی رہی تو کیا ہوگا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد